بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

وقف زمین کی پڑوس زمین میں شفعہ کاحق


سوال

اگرکوئی زمین مدرسہ یامسجدکےپڑوس میں فروخت ہورہی ہو،توکیامدرسےکامہتمم یامسجدکامتولی اس بیچی جانےوالی زمین میں  شفعہ کادعوی کرسکتاہےیانہیں؟

جواب

            فقہی نقطۂ نظرسےحقِ شفعہ ثابت ہونےکےلیےزمین کامالک ہوناضروری ہے،چونکہ مدرسہ اورمسجدکی زمین وقف ہوتی ہے،مدرسے کامہتمم اورمسجدکامتولی اس زمین کےمالک نہیں ہوتے،اسی وجہ سےاگرکوئی زمین مدرسےیامسجدکےپڑوس میں فروخت ہورہی ہو،تومدرسےکےمہتمم یامسجدکےمتولی کواس بیچی جانےوالی زمین میں حقِ شفعہ حاصل نہیں۔

 

(ولا شفعة في الوقف)ولا له نوازل(ولا بجواره)

وقال ابن عابدین:قوله ( ولا شفعة في الوقف ):أي إذا بيع, قال في التجريد ما لا يجوز بيعه من العقار،كالأوقاف لا شفعة في شيء من ذلك عند من يرى جواز بيع الوقف ثم قال لا شفعة في الوقف ولا بجواره... ولا شفعة في الوقف لا للقيم ولا للموقوف عليه.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الشفعة،ج9ص326)


فتویٰ نمبر : 2963/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں