بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیرمتعین پلاٹ بیچنا


سوال

ہمارےعلاقےمیں سوسائٹی بن رہی ہے،توسوسائٹی کےمالکان صرف فائلوں(پلاٹوں کےکاغذات)کوفروخت کرتےہیں،جب کہ پلاٹ اورگلی نمبروغیرہ متعین نہیں ہوتے،شرعااس قسم کی بیع کاکیاحکم ہے؟

جواب

            بیع کی شرائط میں سےیہ ہےکہ مبیع متعین،موجود اورفروخت کرنےوالےکےقبضہ میں ہو،چنانچہ مجہول،معدوم اورغیرمقبوض چیزکی بیع جائزنہیں۔

               لہذاصورتِ مسؤلہ میں اگرسوسائٹی کےمالکان صرف پلاٹوں کےکاغذات فروخت کرتےہوں،اورپلاٹ متعین نہ ہو،تواس طرح معدوم اورغیرمتعین پلاٹ کےکاغذات کی بیع جائزنہیں۔

 

وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره وهذا العبد فإذا هو جارية. (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب شرائط البیع،ج7ص15)

ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل... وأن يكون مالا متقوما شرعا مقدور التسليم في الحال أو في تالي الحال... ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح كبيع شاة من هذا القطيع وبيع شيء بقيمته وبحكم فلان.(الفتاوی الھندية،کتاب البیوع،الباب الأول:في تعریف البیع...ج3ص6,5)


فتویٰ نمبر : 2964/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں