بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
ٹیچر کیلئے غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہ لینا
سوال
ایک اردو کا ٹیچر ہے ۔ چونکہ اس کا گھر سکول سے کافی دور ہے اس وجہ سے وہ اتوار کو گھر نہیں آسکتا۔بلکہ وہ مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ بعد گھر آتا ہے ۔ غیر حاضری کے دوران اس کا کام دوسرا ٹیچر کرتا ہے۔ تو کیا اردو کے اس ٹیچر کیلئے غیر حاضری کے دنوں کی تنخواہ لینا جائز ہے؟ اس کا کہنا ہے کہ محکمہ نے جو کام مجھے سونپا ہے وہ رکا نہیں بلکہ دوسرے ٹیچر نے کیا ہے۔جیسے درزی خود سلائی نہیں کرتا بلکہ شاگرد سے کرواتا ہے تو بھی اسے سلائی ملتی ہے۔
جواب
واضح رہے کہ وہ اجیر جو کسی خاص مدت کے اندر اپنی خدمات سپرد کر کے اجرت کا مستحق بنتا ہے اجیر خاص کہلاتا ہے۔ اجیر خاص کی ذمہ داری ہےکہ وہ مقررہ مدت میں اپنے آپ کو ذمہ داری کے لیے حوالہ کرے اور اس دوران کسی اور کام میں مشغول نہ ہوورنہ وہ تنخواہ کا مستحق نہیں ہو گا اسی طرح اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی اور شخص کواپنی ڈیوٹی سر انجام دینے پر مقرر کر لے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق سرکاری ٹیچر اس وقت تنخواہ لینے کا مستحق ہوتا ہے، جب خود اپنی ڈیوٹی مقرر کردہ اوقات میں پوری کرے،چنانچہ کسی ٹیچر کے لیے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو مقرر کرنا جائز نہیں ۔ تاہم حکومتی قوانین کے مطابق ملازمین کو جس مقدار میں چھٹیوں کی اجازت ہوتی ہے اگر حسبِ ضابطہ اسی مقدار میں چھٹیاں کرے تو ان چھٹیوں کے ایام کی تنخواہ لے سکتا ہے، لیکن اگر مقررہ مقدار سے زائد غیر حاضر رہتا ہے تو ان ایام کی تنخواہ لینا جائز نہیں گا۔
وَالْخَاصُّ الذي يَسْتَحِقُّ الْأُجْرَةَ بِتَسْلِيمِ نَفْسِهِ في الْمُدَّةِ , وَإِنْ لم يَعْمَلْ۔ (تبيين الحقائق، باب الخلع، ج5،ص134)
إذااستأجررجلايوماليعمل كذافعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدةولايشتغل بشیء (الفتاوى الھندیة ،كتاب الاجاره الباب الثالث،ج:4،ص:247)
الأجيرالذي استؤجرعلى أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،المادة:571،ج:1،ص:5619)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں