بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لاعلمی میں شرط واقع ہونے پر طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے قسم کھائی کہ" میں نے اگر موبائل ڈیٹا ڈیلیٹ کیا تو مجھ پر بیوی طلاق ہوگی"۔پھر  اس نےمیموری کارڈ  کا ڈیٹا ڈیلیٹ کیا۔  اس یقین  سے کہ اس سے موبائل ڈیٹاڈیلیٹ  نہیں ہوگا۔لیکن جب بعد میں چیک کیا تو موبائل ڈیٹا  بھی ڈیلیٹ ہوا تھا ، تو کیا اس سےطلاق واقع ہوگی؟واضح رہے کہ دونوں یعنی موبائل اور میموری کارڈ کا  ڈیٹا الگ الگ ہوتے ہیں۔

جواب

            فقہاےکرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی  شخص  طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے ،  تو شرط  کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہےاس کو  شرط کے پائے جانے کا علم ہو یا نہ ہو ۔

           صورتِ  مسئولہ کے مطابق موبائل ڈیٹا کے ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ایک  طلاق کو معلق کرنے کےبعد جب  میموری کارڈ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کیا اور اس کے ساتھ موبائل  ڈیٹا بھی  ڈیلیٹ ہوگیاتو اس سے ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوگئی ہے۔ اس کے بعد  عدت کے دوران شوہر بلا تجدیدِ نکاح کے رجوع کرسکتا ہے، جب  کہ عدت گزرنے کے بعد عورت کی رضامندی سے تجدیدِ نکاح   کرسکتا ہے، نیز  آئندہ کے لیے اس کے پاس دو طلاقوں کا حق  ہوگا۔

 

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق"(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، ج:1، ص:420، مكتبة دار الفكر)

"ومن فعل المحلوف عليه عامدا أو ناسيا أو مكرها فهو سواء وكذا من فعله وهو مغمى عليه أو مجنون كذا في السراج الوهاج"(الفتاوى الهندية، كتاب الإيمان،  الباب الأول في تفسيرها شرعا وركنها وشرطها وحكمها ، ج:2، ص:118، مكتبة دار الفكر)

"ولو حلف لا يأخذ من فلان ثوبا هرويافأخذ منه جرابا هرويا فيه ثوب هروي قد دسه فيه وهو لا يعلم حنث قضاء وكذا لو حلف لا يأخذ منه درهما فأعطاه فلوسا في كيس ودس فيها درهما فقبضها الحالف ولا يعلم حنث"(الفتاوى الهندية، كتاب الإيمان، الباب الثامن في البيع والشراء، ج:2، ص:119، مكتبة دار الفكر)


فتویٰ نمبر : 6379/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں