بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

آبائی علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ سکونت پذیر شخص کا وطن اصلی


سوال

ایک شخص پشاور میں مستقل مقیم ہے۔لیکن اس کا آبائی اور پیدائشی علاقہ لکی مروت ہے۔جہاں پر ابھی تک سائل کی زمین، گھر اور باقی رشتہ دار موجود ہیں،جبکہ وہ پشاور میں بمع اہل و عیال اپنی ذاتی ملکیت کے گھر میں مقیم ہے۔مگر صرف خوشی و غم کے موقع پر کبھی کبھار ایک دو دن کے لیے لکی مروت چلا جاتا ہے،تو کیا سائل لکی مروت میں مسافر ہوگا یا مقیم؟َ

جواب

            واضح رہے کہ اگر کوئی شخص بمع اہل و عیال آبائی و پیدائشی علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ سکونت پذیر ہوجائے ، لیکن آبائی علاقے میں ابھی بھی اس کے رشتہ دار ،زمین، جائیداد وغیرہ موجود ہوںاور اس نے مستقل طور پراس کوچھوڑنےکا عزم نہ کیا ہوتو یہ دونوں جگہیں اس کے وطن اصلی شمار ہوں گےاور دونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھے گا۔البتہ اگر اس نے آبائی علاقے کو مستقل طور پر چھوڑ نے کا عزم کیا ہو تو وہاں کے وطن اصلی ہونے  کی حیثیت باطل ہوگی۔

           صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے آبائی علاقے کومستقل چھوڑنے کا عزم کیا ہےتو  پندرہ دن سے کم قیام کی نیت سے جب بھی آبائی علاقہ جائے گا تو مسافر شمار ہوگا، لیکن اگر مستقل چھوڑنے کاعزم نہیں ہے ،تو آبائی علاقہ بدستور اس کا وطن اصلی رہےگا،لہذا وہ جب بھی آبائی علاقے میں جائے گا ، مقیم شمار ہوگا۔

 

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب المسافر، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة ،ج:2، ص:132، دارالكتب العلمية)

قوله( ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا السفر ووطن الإقامة بمثله والسفر والأصلي )۔۔۔ وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر۔(البحرالرائق، کتاب الصلوۃ، باب المسافر، ج:2، ص:239، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 9018/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں