بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

مضارب کا ایک انویسٹر کے پیسے دوسرے انویسٹر کی بیع میں دینا


سوال

ہم پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار کرتے ہیں، بعض انویسٹرز ہمیں بطور مضاربت پیسے دیتے ہیں، جو ہمارے پاس پڑا رہتا ہے، جس سے ہم پلاٹ وغیرہ خرید کر منافع کے ساتھ بیچتے ہیں، اور منافع کو آپس میں طے شدہ فیصد کے مطابق تقسیم کرتے ہیں، جب ہم کسی انویسٹر کے لیے پلاٹ خرید کر اس کی رقم کی میعاد پوری ہوجاتی ہے، اور اس وقت اس کے اپنے پیسے ہمارے پاس موجود نہیں ہوتے،تو ہم دوسرے انویسٹر کے پیسوں سے اس کی ادائیگی کرتے ہیں، پھر جب اس سے ہم پیسے وصول کرلیتے ہیں تو اس کو واپس اس انویسٹر کےکھاتے میں جمع کرتے ہیں جس کے پیسوں سے ادائیگی کی ہوتی ہے۔ اور اس میں کسی بھی انویسٹر کا کوئی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ صرف وقتی طور پر ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے۔ تو کیا ہمارے لیے ایک شخص کے پیسوں سے اس کی اجازت کے بغیر دوسرے شخص کی بیع میں اس طرح دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ مضارب کےلیے مضاربت کی رقم  میں صرف ان تصرفات کا اختیار ہوتا ہے جن کا تعلق مضاربت سے ہو یا اس کے توابع میں سے ہوں، جیسے: نقداً یا ادھار خرید و فروخت کرنا، یا کوئی چیز کرایہ پر دینا یا لینا ، یا مضاربت کا مال کسی کے پاس امانت رکھنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ جن تصرفات کا تعلق مضاربت سے نہ ہو اور نہ ہی اس کے توابع میں سے ہوں ، جیسے: کسی کو ہبہ کرنا، یا صدقہ کرنا یا قرض دینا وغیرہ، تو کسی مضارب کےلیے مضاربت کی رقم میں رب المال (سرمایہ کار) کی اجازت کے بغیر اس قسم کے تصرفات کا اختیار نہیں ہوتا۔

            صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ ایک انویسٹر کے پیسے دوسرے انویسٹر کی بیع میں دینا، ایک کی رقم دوسرے  کو قرض دینے کے حکم میں ہے، جس کا اختیار مضارب کے پاس نہیں ہوتا، اس لیے رب المال کی اجازت کے بغیر شرعاً یہ عمل جائز نہیں۔ تاہم اگر کوئی رب المال مضارب کو اپنی رقم کسی کو قرض دینے کی اجازت دے دے، تو اس صورت میں اس کی گنجائش ہے۔

الأصل أن ما يفعله المضارب ثلاثة أنواع نوع يملكه بمطلق المضاربة وهو ما يكون من باب المضاربة وتوابعها ومن جملته التوكيل بالبيع والشراء للحاجة والرهن والارتهان والإجارة والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة...ونوع لا يملكه لا بمطلق العقد ولا بقوله اعمل برأيك إلا أن ينص عليه رب المال وهو الاستدانة...والإقراض والهبة والصدقة هكذا في الهداية. (الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الرابع فيما يملك المضارب من التصرفات وما لا يملك، ج:4، ص:300)


فتویٰ نمبر : 2962/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں