بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قبلہ کی جانب کموڈ بنانا
سوال
ہمارے اپارٹمنٹ ہیں جس کے نقشے میں کموڈ قبلے کی جانب رکھے گئے ہیں، اس لیے بعض لوگ افراتفری کے شکار ہوگئے، کیوں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قبلہ کی جانب کموڈ بنانا جائز نہیں، جب کہ دیگر بعض لوگ کہتےہیں کہ جائز ہے۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
کعبۃ اللہ دنیا کی سطح پر اللہ تعالی کے نزدیک افضل ترین مقام ہے، جس کا احترام رکھنا اور ہر قسم کی بے ادبی سے بچنا مسلمانوں پر لازم ہے، اور کسی چیز کی جانب پیشاب کرنا چونکہ اس چیز کی بے ادبی شمار ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں بیت اللہ کی جانب پیشاب کرنے سے ممانعت آئی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک کا مفہوم ہے: جب تم بیت الخلا آؤ تو چھوٹے اور بڑے استنجا میں قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ۔ اسی طرح ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم شام گئے تو وہاں پر بیت الخلا قبلہ کی جانب بنے ہوئے تھے، تو ہم تکلف کے ساتھ گھوم کر بیٹھتے تھے، یعنی حتی الامکان قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے سے بچنے کی کوشش کرتے، اور استغفار کرتے۔
لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اپارٹمنٹ میں قبلہ کی جانب کموڈ بنانا لوگوں کو بیت اللہ کی بے ادبی اور بے حرمتی پر مجبور کرنے کا مترادف ہے، جو شرعا ناجائز ہے، اس لیے اپارٹمنٹ کا نقشہ تبدیل کرکے کموڈ کو قبلہ کی جانب سے پھیر کر اس طرح لگایا جائے کہ نہ قبلہ کی طرف منہ آئے اور نہ پشت۔
عن أبي أيوب الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط و لا بول و لا تستدبروها و لكن شرقوا أو غربوا فقال أبو أيوب فقدمنا الشأم فوجدنا مراحيض قد بنيت مستقبل القبلة فننحرف عنها ونستغفر الله. (سنن الترمذي، ابواب الطهارة، باب في النهي عن استقبال القبلة بغائط أو بول، رقم الحديث:8، ج:1،ص:13)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں