بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

معتکف کا فرض غسل کے علاوہ غسل کے لیے مسجد سے نکلنا


سوال

معتکف کا تبرید  کی غرض سے غسل کرنے سے اس کا اعتکاف فاسد ہوگا یا نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ معتکف  کے لیےمسجد  سے باہر نکلنے کی اجازت صرف طبعی یا شرعی ضرورت کی صورت ميں ہے  اور چونکہ ٹھنڈک حاصل کر نے کے لیے غسل   کرنا نہ طبعی ضرورت ہے اور نہ ہی  شرعی حاجت میں داخل ہے۔ لہذا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے غسل کی غرض  سے مسجد سے باہر نکلنے پر  اعتکاف فاسد ہوگا۔

 

وحرم عليه الخروج إلا لحاجة الإنسان طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الإغتسال في المسجد،أو شرعية كعيد واذان لوموءذنا۔(الدر المختار على صدرردالمحتار، باب الإعتكاف،ج:3،ص:435)

ولا يخرج المعتكف من المسجد إلا لحاجة لازمة شرعية كالجمعة أو لحاجة طبيعية كالبول والغائط۔ (فتاوى قا ضيخان، باب الإعتكاف، ج:1، ص:196)


فتویٰ نمبر : 9012/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں