بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مزارعت کی ایک صورت


سوال

اگرعقدمزارعت  میں بیج ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے فریق کی طرف سے زمین ،محنت اور آلات زراعت ہوں تو کیا شرعا یہ معاملہ جائزہے یاناجائز؟

 

جواب

          مزارعت کی  وہ صورت جس میں ایک فریق کی جانب سے     بیج ہواوردوسرے فریق کی طرف سے     محنت ، زمین اورآلات زراعت ہوں،تو فقہ حنفی  کی رو سے یہ صورت جائز نہیں ۔

        لہذا صورت مسؤلہ کےمطابق یہ عقد مزارعت کا معاملہ جائز نہیں ہے۔

 

أن يكون البذرمن أحدهماوالباقي من الآخر،وذالك فاسدلأن صاحب البذريصيرمستأجراالأرض فلابد من التخلية بينه وبين الأرض،وهي في يدالعامل لا في يد صاحب البذر۔

وعن أبي يوسف رحمه الله:أنه يجوز لمكان العرف والفتوى على ظاهرالرواية۔(الفتاوىالهندية،كتاب المزارعة،الباب الثاني:في بيان أنواع المزارعة،ج5:ص275)


فتویٰ نمبر : 3006/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں