بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ماہواری کے ایام میں پیڈ کا استعمال اور اسے ضائع کرنے کا طریقہ


سوال

خواتین کا حیض کے دوران پیڈجو عموماً میڈیکل  دوکان پر دستیاب ہوتا ہے، استعمال کرنا شرعاً کیسا ہے؟ بعض خواتین پیڈ استعمال کرنے کے بعد اسے دھو کر پھینکنے کی تلقین کرتی ہیں۔استعمال شدہ پیڈ کو کس طرح اور کہاں پھیکنا چاہیے؟

جواب

               واضح رہے کہ  عورتوں کے لئے حیض اور نفاس کے ایام میں اپنے خاص مقام پر کوئی کپڑاوغیرہ  رکھنامستحب ہےتاکہ لباس اور بدن گندا ہونے سے بچے۔  فقہاء کرام نے استعمال کے بعد اس کپڑے کواس طریقہ سے ضائع کرنامستحن  لکھا ہے کہ اس سے بیماری اور بےحیائی نہ پھیلے ۔

               صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی عورت ایام حیض و نفاس کے دوران پیڈ استعمال کرسکتی ہے ،کیونکہ یہ اسی  مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں ۔تاہم استعمال کے بعد اگر اس کو دفن کرنا آسان ہو تواس کو دفن کرنا چاہیے لیکن اگر دفن نہ کر سکے تو  اس طریقہ سے ان  کو ضائع کیا جائے کہ   لوگوں کی نگاہ اس پر نہ پڑے  اور کسی بیماری کا سبب بھی نہ بنے۔

 

وضع الكرسف مستحب للبكر في الحيض وللثيب في كل حال وموضعه موضع البكارة ويكره في الفرج الداخل. اهـ. وفي غيره أنه سنة للثيب حالة الحيض مستحبة حالة الطهر ولو صلتا بغير كرسف جاز۔ (البحر الرائق، كتاب الحيض،ج:1، ص:203،دارالکتب العلمیة)

فإذا قلم أطفاره أو جز شعره ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء كذا في فتاوى قاضي خان يدفن أربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم كذا في الفتاوى العتابية (الفتاویٰ الہندیة،كتاب الكراهية،الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار وقص الشارب وحلق الرأس وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها، ج:5، ص:96،دار الفكر)


فتویٰ نمبر : 9013/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں