بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مريض پر روزہ کے فدیہ کے واجب ہونے کا حکم


سوال

ایک عورت پر رمضان المبارک کے قضا روزے ہیں اس عورت میں پانی کی کمی ہے جب بھی روزہ رکھتی ہے دو، تین  دن بیمار رہتی ہے۔اب اس عورت کو روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں ؟نیز فدیہ واجب ہوگا یا صحت تک انتظار کرنا پڑے گا ،کیونکہ عورت اب تک جوان ہے۔

جواب

              اگر کسی مریض کی صحت یابی کی امید باقی نہ ہو،اور  مرض کے ہوتے ہوئے روزہ رکھنے پر قادر نہ ہویا روزہ رکھنے سے مرض بڑھ جانے کا قوی امکان ہواور ماہرو دیندار  ڈاکٹر بھی  مریض کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے تو ایسی صورت میں مریض کو روزہ نہ رکھنے اور اس کے بدلے فدیہ دینے کی گنجائش ہے۔

              صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کو روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے ،اگر صحت مند ہونے کی امید ہو تو انتظار کرے اور اگر امید نہ ہو تو  ہر روزےکے بدلے فدیہ دے۔جس کی مقدار ایک صدقہ فطر ہے۔البتہ اگر وہ  فدیہ دینے کے بعد صحت مند ہوجائے تو بھی افطار کردہ روزوں کی قضاء رکھے گی۔

 

المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اهـ(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، ج:3، ص:410، دارالكتب العلمية)

ومنها المرض المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق۔۔۔ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية(الفتاوى الهندية، كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج:1، ص:228، دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 9014/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں