بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

گاڑی کے ٹکرسے کبوتر مرنے پر کفارہ


سوال

ایک مرتبہ میں گاڑی چلا رہا تھاتو  سڑک پر کبوتروں کا جھنڈبیٹھا تھا ۔جس میں ایک کبوتر میرے نہ چاہتے ہوئےمیری  گاڑی سے ٹکرا کر مر گیا،حالانکہ میں نے کئی ہارن بھی بجائےتھے۔اب اس کا کفارہ کیا ہوگا؟

جواب

             واضح رہے کہ پرندوں کو محض دلی لگی کے لیے مارنا یا  تکلیف دینا شریعت میں منع ہے،لیکن دفع ضرر یا شکار کی نیت سے اگر کسی پرندے کو مارا جائے تو اس کی اجازت  ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق اگر گاڑی چلاتے ہوئے  کوئی کبوتر گاڑی کے ٹکر سے مرگیا ہے تو اس کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں  ہوتا۔

 

ولا بأس بقتل الجراد لأنه صيد يحل قتله لأجل الأكل فلدفع الضرر أولى كذا في فتاوى قاضي خان۔(الفتاوی الھندیة، كتاب الكراهية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات وقتل الحيوانات وما لا يسع من ذلك)


فتویٰ نمبر : 4936/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں