بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نسبی چچاکی رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا


سوال

خوشحال اورانوردونوں لعل شاہ کےبیٹےہیں۔خوشحال کےبیٹےممتازنےاپنی چچی جوکےانورکی بیوی ہے اس کادودھ پی لیا ہے۔اسی طرح انورکےبیٹےراحت نےبهی اپنی چچی جوکے خوشحال کی بیگم ہےاس کادودھ پیاہے۔نیزراحت کےنسبی بھائی نجیب کےبیٹےنےبھی اپنی دادی کادودھ پیاہے۔اب ممتازکا نسبی بھائی نوروز اپنےبیٹےکانکاح نجیب جوکےممتازکارضاعی بھائی ہے،اس کی بیٹی سےکراناچاہتاہےتوکیاازروئے شرع نوروزکےبیٹےکا نکاح نجیب کی بیٹی سےدرست ہےیانہیں؟ 

جواب

              شرعی نقطۂ نظرسےجب کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کادودھ پی لےتودودھ پلانےوالی عورت کے اصول وفروع اس بچےپراوردودھ پینےوالےکےفروع پلانےوالی عورت  پرحرام ہوجاتےہیں،البتہ دودھ پینےوالےکےبہن بھائیوں  کی طرف حرمت کایہ حکم متوّجہ نہیں ہوتا۔

            لہذاصورتِ مسئولہ میں حسب ِبیان جب ممتازنےاپنی چچی (نجیب کی ماں)کادودھ پی لیاتویہ چچی اس کی رضاعی ماں بن گئی،چنانچہ ممتازاس کےاصول وفروع سےنکاح نہیں کرسکتا،البتہ ممتازکےنسبی بھائی نوروزکےبیٹےکانکاح نجیب کی بیٹی سےشرعاًدرست ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اوروجہ نہ ہو۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى.(رد المحتارعلى الدرالمختار، كتاب النكاح، باب الرضاع، 4/410-411، دارالکتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 6355/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں