بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

ساس كااپنی بہوؤں کومکان مہرمیں دینا


سوال

اگرکسی عورت کی ملکیت میں ایک گھرہواوروہ اپنی زندگی میں تین بیٹوں کی شادی کرتےوقت ہرایک بیٹےکی بیوی کےمہرمیں گھرکاچوتھائی حصہ لکھ دےتواس عورت کےانتقال کرجانےکےبعدگھرکاکتناحصہ ترکہ  میں سےشمارہوکرورثا میں  تقسیم ہوگا؟

جواب

              شریعت مطہرہ کی رو سے مہر کی ادا ئیگی خاوند کی ذمہ داری ہے نہ کہ والد ین کی ،تاہم والدین میں سےکسی  ایک  کاازخود بیٹے کی طرف سے بہو کو مہر ادا کرنا ایک تبرع ہے،جس کے پورے ہونے کےلیے عورت کی طرف  سے اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے، لیکن اگرکسی سسریاساس نے  اپنی بہو کو مہر ادا کرنے کی ذمہ داری اور ضمان قبول کر کے اپنا مکان یااس کا کچھ حصہ اس کےنام لکھا ہو تو ایسی صورت میں  قبضہ دیے بغیر بھی اس مکان  پر ملکیت اس بہو کو حاصل ہوگی۔

            صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون نےبیٹوں کی طرف سے مہر کا ضامن بننے کے بغیر تین  بہوؤں میں سےہرایک کو گھرکاچوتھائی حصہ بطور مہر دیا ہواورانہوں نے اپنے  حصہ پر قبضہ بھی کر لیا ہو توساس کےفوت ہونےکے بعدگھرکاتین چوتھائی حصہ ان بہوں کی ملکیت ہے،چنانچہ مذکورہ حصہ ترکہ میں سےشمارنہ ہوگا۔لیکن اگر مذکورہ خاتون  کی زندگی میں ان حصوں کی باقاعدہ  تعیین وتقسیم  نہ ہوئی ہو تو یہ گھر ساس کی ملکیت سے نہیں نکلا،لہذاپورا  گھرترکہ شمارہوکرتمام ورثامیں بقدرحصصِ شرعی  تقسیم  ہوگا۔

اور اگر مذکورہ خاتون نے بیٹوں کی طرف سے مہر کی ادائیگی کا ضامن بننےکےبعداپنا گھر بہوؤں کےنام لکھاہوتوپھر قبضےکےبغیربھی   گھرکی ملکیت بہوؤں کوحاصل ہو گی،لہذاگھرکامذکورہ حصہ ساس کےانتقال کرجانےکےبعدبہوں کی ملکیت ہونےکی وجہ سےترکہ شمارنہ ہوگا،صرف بقیہ حصہ ترکہ شمارہوگا۔

 

وفي البزازية إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها؛ لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة؛ لأنه بيع فلا يبطل بالموت.(البحرائق، كتاب النكاح، باب المهرتحت قوله:وصح ضمان الولي المهر، 3/307، دارالكتب العلمية)

ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، باب المهر، قبيل مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر، 4/290، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 6359/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں