بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
مضاربت کی مخلوط رقم سے کسی سرمایہ کار کی رقم واپس دینا
سوال
اگر کوئی شخص چند آدمیوں سے کاروبار کے لیے رقم جمع کرے، اور اس رقم کو خلط ملط کرنےکے بعد ان میں سے کوئی ایک اپنی تمام یا بعض رقم واپس لینے کا مطالبہ کرے،تو کیا اس مخلوط رقم سے اس کے پیسے دینا جائز ہےیا نہیں؟
جواب
ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے شخص کی محنت سے چلنے والا کاروبار مضاربت کہلاتا ہے، اور مضاربت کا مال مضارب کے پاس امانت ہوتا ہے، تاہم جب امانت کے مال کو دوسرے اموال کے ساتھ مالک کی اجازت کے بغیر مخلوط کیا جائے تو وہ امانت کے حکم سے نکل کر امین کے ذمےدین بن جاتاہے، اس لیے اس سے کسی مستودع (امانت رکھوانے والے) کو اس کی رقم ادا کی جاسکتی ہے،اگر چہ وہ بعینہ اس کا مال نہ ہو۔ لیکن اگر امانت کے اموال کو ان کے مالکوں کی اجازت سے خلط کیا جائے، تو امانت کا معاملہ برقرار رہے گا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر مضارب نے سرمایہ کاروں کے اموال کو ان کی اجازت کے بغیر مخلوط کردیا ہو تو وہ امانت سے نکل کر اس کے ذمے دین بن گیا ہے، اس لیے اگر کوئی رب المال (سرمایہ کار) اپنی تمام یا بعض رقم واپس لینے کا مطالبہ کرے تو اس کو مخلوط رقم میں سے دینا جائز ہے۔ اور اگر ان کی اجازت کے ساتھ مخلوط کیا ہو تو اس صورت میں تمام سرمایہ کار اس میں شریک ہوں گے، ایسی صورت میں بھی جو رقم واپس طلب کرے تو اس کو مخلوط رقم میں سے اس کا حصہ واپس کیا جائے گا۔
لو خلط المستودع دنانير الوديعة بدنانير له أو دنانير وديعة عنده لآخر متماثلة بلا إذن فضاعت أو سرقت لزمه الضمان. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، المادة: 788، ج:3، ص:264)
إذا خلط المستودع الوديعة بإذن صاحبها...اشترك صاحب الوديعة والمستودع بمجموع الدنانير كل منهما على قدر حصته. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، المادة: 789، ج:3، ص:267)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں