بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

چٹائیوں پر چوہوں کے بول اور پیشاب کرنے کے بعد ان پر نماز پڑھنا


سوال

مسجد کی چٹائیاں جہاں ہوتی  ہیں وہاں چوہیں  ہوتی ہیں  اور وہ ان چٹائیوں پر پیشاب اور بول کرتی ہیں تو کیا ایسی  چٹائیوں کو مسجد میں بچھا کر ان پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

                شرعی نقطہ نظر سے نماز کی صحت کے لیے  دیگر شرائط کے علاوہ جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے چنانچہ اگر نماز پڑھنے کی جگہ پاک نہ ہو تو وہاں نماز پڑھنا درست نہیں ۔اسی طرح فقہاےکرام کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ چوہوں کا پاخانہ  نجس ہے  چنانچہ اگر چٹائی  وغیرہ پر  چوہوں کا پاخانہ اور پیشاب مقداردرہم سے زیادہ ہوتو اس کا ازالہ ضروری ہے ۔تاہم اگر یقینی طور پر چوہوں کی نجاست کے وقوع کی  جگہ اورمقدار معلوم نہ ہو تو محض شک کی بنیاد پرچٹائی وغیرہ پر نا پاکی  کا حکم نہیں لگایا جائیگا ،لہذا    جب تک نجاست کے وقوع کا یقین نہ ہو ،اس پر نماز پڑھنا جائز ہے ، نیز ان چٹائیوں کی جگہ تبدیل کر کے کسی محفوظ جگہ پر رکھنا چاہیے تا کہ  نجاسات سے حفاظت میں ہوں ۔

 

وخرء الفأرة نجس؛ لاستحالته إلى خبث ونتن رائحة، واختلفوا في الثوب الذي أصابه بولها حكي عن بعض مشايخ بلخ أنه قال: لو ابتليت به لغسلته فقيل له: من لم يغسله وصلى فيه؟ فقال: لا آمره بالإعادة. (بدائع الصنائع ،كتاب الطهارة ،فصل في بيان الطهارة الحقيقية ،ج1،ص367)

(و) تطهر (أرض) بخلاف نحو بساط (بيبسها) (قوله: بخلاف نحو بساط) أي: وحصير وثوب وبدن مما ليس أرضا ولا متصلا بها اتصال قرار. (الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الطهارة،باب الأنجاس ،ج1،ص512)

ولو صلى على بساط وعلى طرف منه نجاسة فالأصح أنه يجوز كبيرا كان أو صغيرا؛ لأنه بمنزلة الأرض فلا يصير مستعملا للنجاسة وهو بالطريق الأولى؛ لأن النجاسة إذا كانت لا تمنع في موضع الركبتين واليدين فههنا أولی.(البحرالرائق،کتاب الصلوة،باب شروط الصلوة،ج1،ص466)

اليقين لا يزول بالشك.(شرح مجلة الاحکام ،القاعدةالثالثة،الأشباه والنظائر،ص27)


فتویٰ نمبر : 9046/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں