بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

"محمد یزدان" نام رکھنا


سوال

 محمد یزدان نام رکھنا  شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

          یزدان فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی فارسی لغت میں "خدا"سے کیا گیا ہے نیز مجوس کے خیال میں خیر اور شر کے دو الگ الگ خالق ہیں خیر کا خالق "یزدان "جب کہ شر کا خالق "اہرمن"ہے۔یوں دونوں معانی کے اعتبار سےیہ نام رکھنا جائز نہیں لہذا دوسرا کوئی اچھے مفہوم کا نام رکھنا چاہیے اور اگر کسی کا نام یزدان رکھا ہو تو اس کو بدلنا چاہیے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے نامناسب ناموں کو اچھے ناموں سے بدل دیا کرتے تھے۔

 

 عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ، وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ،فأَحْسنُوا أَسْمَاءَكُمْ۔(سنن أبی داود، باب فی تغییر الأسماء،ج2 ، ص676)

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یغیر الاسم القبیح الی الحسن۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ج9ص599)

یزدان،اللہ تعالی،نیکی کے خدا۔(حسن اللغات فارسی ص985)

یزدان،ایزد،خدا ۔(فرھنگ فارسی عمید ص1282)

یزدان ،خدا۔(فرھنگ فارسی بفارسی ص448)

یزدان ،نیکی اور خیر کا خالق،پارسیوں کا خدا۔(فیروز اللغات ص727)


فتویٰ نمبر : 4911/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں