بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

واپڈا ملازم کااپنے استعمال سے زائدمفت یونٹس مدرسہ کو دینا


سوال

ایک واپڈا ملازم کو ماہانہ 800 یونٹس بجلی حکومت کی طرف سے فری دئیے جاتے ہیں اس کے پڑوس میں مدرسہ ہے چونکہ اس ملازم کا بجلی خرچہ 800 یونٹ سے کم ہے تو کیا زائد یونٹ اپنے میٹر سے مدرسے کو دے سکتا ہے یا نہیں ؟ باحوالہ جواب دے کر ممنون فرمائیں کیونکہ علاقے کے اکثر علماء نے یہ کہہ کر جائز قرار دیا ہے کہ چونکہ مذکورہ یونٹس استعمال کرنے کا حکومت نے اس ملازم کو حق دیا ہے تو گویا کہ یہ ملازم اپنی ملک سے مدرسہ کو بجلی دیتا ہے جبکہ بعض علماء نے ایسا کرنے کو ناجائز قرار دیا ہے ۔ ضرور رہنمائی فرمائیں تاکہ بروقت شریعت کا لحاظ کیا جا سکے ۔

جواب

          واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے  سرکاری ملازمین کو جومراعات اس طور پر  ملتی ہیں کہ صرف ملازم کو استعمال کی اجازت ہو،کسی اور کو اس میں شریک کرنے کی اجازت نہ ہوتو شرعا ملازم کے لیے ان مراعات میں کسی اور کو شریک کرناجائز نہیں۔

         واپڈا ملازمین کو جو فری یونٹس ملتے ہیں،ہماری معلومات کے مطابق محکمہ ان ملازمین کوفری یونٹس کا مالک نہیں بناتابلکہ صرف ان کو استعمال کی اجازت ہوتی ہے،چنانچہ ان ملازمین کے لئے محکمہ کی طرف سے یہ اجازت نہیں ہوتی کہ کسی اور کو  یہ یونٹس مفت یا بالعوض استعمال کےلیے دے دے،لہذا  جب محکمہ کی طرف سے یہ اجازت نہیں ہے تو شرعا بھی اس کی اجازت نہ ہوگی۔

 

أن المباح له ليس له أن يبيح لغيره۔(تبيين الحقائق،كتاب العاريه،ج:5،ص:83)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في مال الغير بلا إذنه،وعدم الجواز شامل لجميع انواع التصرف من استعمال كركوب،ولبس ووضع جذع على حائط، ودخول دار ومرور بأرض،ومن اعارة وايداع واجارة وصلح  وهبة وبيع ورهن وهدم وبناء۔(شرح المجلة،المادة:96،ج:1،ص:262)


فتویٰ نمبر : 4922/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں