بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

شرکت ختم کرنے کی صورت میں ذمے پر لازم دیون کا حکم


سوال

کوئی شخص شرکت کا عقد اس طور  پر کرے کہ شریک کے ساتھ  مال اور نفع میں برابر کا  شریک ہو اور ایسی صورت میں ایک شریک اپنا حصہ دوسرے پر فروخت کرنا چاہتا ہو،تو ان پر جو دیون سرمایہ کےعلاوہ نفع میں موجود ہوں  ،ان کا کیا حکم ہو گا ؟

جواب

                واضح رہے کہ شرکت کے معاملہ میں ایک شریک اپنا حصہ دوسرےشریک پر فروخت کر کے اس کی قیمت وصول کر سکتا ہےاور اگران پر دیون لازم ہوں توپہلے دیون کو اداکریں گے ،پھر بقیہ  منافع  تقسیم کریں گے،البتہ اگر دیون کو بھی دوسرے شریک کے حوالہ کرےتو اگر دین کا معاملہ حصہ بیچنے والے شریک نے قرض خواہ کے ساتھ  کیا ہو ،تو ایسی صورت میں قرض خواہ اوراس دوسرے شریک کی رضامندی ضروری ہو گی ،کیونکہ یہ حوالہ کی صورت بنتی ہے ۔

               لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق اگر شریکین میں سے ایک  اپنا حصہ دوسرے پر فروخت کرنا چاہتا ہے اور  حسب سوال سرمایہ کے علاوہ نفع بھی موجود ہےجو ذمے پر لازم ديون سے زائد ہے،تو پہلے نفع سے دیون کو ادا کر دیا جائے اور پھر بقیہ   اگر نقد ہو تو اسے تقسیم کیا جائےاور  جو نفع یا سرمایہ اعیان کی صورت میں ہو اس میں اپنا حصہ دوسرے شریک پر باہم رضامندی سے قیمت طے کر کے فروخت کر سکتا  ہے اور اگر دین کی ادائیگی فی الحال نہ کریں   تو ایسی صورت میں جو دیون اس حصہ بیچنے والے شریک نے لیےہیں  وہ دوسرے شریک کے حوالہ کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ شریک اور قرض خواہ دونوں اس پر راضی ہوں۔

 

ولو استقرض مالا لزمهما جميعا؛ لأنه تملك مال بالعقد، فكان كالصرف، فيثبت في حقه وحق شريكه.(بدائع الصنائع،فصل في حكم الشركة،ج:7،ص:535)

مطلب: اشتراط الربح متفاوتا صحيح، بخلاف اشتراط الخسران۔۔۔۔۔ثم يقول: فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما، وما كان من وضيعة أو تبعة فكذلك، ولا خلاف أن اشتراط الوضيعة بخلاف قدر رأس المال باطل واشتراط الربح متفاوتا عندنا صحيح.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الشركة،ج:6،ص:475)

قال: "وتصح الحوالة برضا المحيل والمحتال والمحتال عليه".(الهداية،كتاب الحوالة،ج:3،ص؛136)

أما الذي يرجع على المحيل (فمنه أن يكون عاقلا) ….وأما الذي يرجع إلى المحتال له (فمنه العقل)….. (ومنه الرضا) حتى لو احتال مكرها لا يصح….وأما الذي يرجع إلى المحتال عليه….. (ومنه رضاه وقبول الحوالة) سواء كان عليه دين، أو لم يكن عند علمائنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط.(الفتاوی الهندية،كتاب الحوالة،ج:3،ص:266)


فتویٰ نمبر : 2969/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں