بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

بھائی کے کمائی میں دوسرے بھائی کا حق مانگنا


سوال

اسلام علیکم جی ایک مسلہ پوچھنا تھا کہ ھم ٹوٹل تین بھائی ہیں دو دوبئی میں ہیں اور ایک پاکستان میں ہے والدین فوت ہو چکے ہیں ۔والدین کی طرف سے وارثت میں کچھ بھی نہیں ملا ہیں جو کمایا ہے ھم دو بھائیوں نے کمایا ہے ۔ھم دو بھائی تقریب 15 سال سے دوبئی میں ہے ان 15 سالوں میں ھم نے ٹوٹل 10 لاکھ درہم بیجھے ہے گھر کو ۔جسمیں گھر حرچہ وغیرہ ۔3 بہنوں اور 2 بھائیوں کی شادیاں کیں ہیں اور بھی بہت پیسہ خرچ ہوا اسکے علاوہ پاکستان میں جو بھائی ہے اسپے ہم نےبہت پیسہ خرچ کیا ہے کئ کاروبار شروع کی لیکن پورا نقصان ہو گیا ہے اسنے ہمارا بہت نقصان کیا اور ابھی مانتے بھی نہں کہ میں آپ سے پوچھ کہ کاروبار شروع کیے لیکن میں کہتا ہو کہ میں نے آپ پہ بھروسا کیا بھائی ہونے کہ ناتے مجھے کیا معلوم تو کس کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں اسکا ذمےدار آپ ہے ۔ابھی بھی لوگوں کے ساتھ 20 لاکھ قرضہ ہے 12 سال ہو گئے لیکن اس کے دوست نہیں دیتے ۔۔۔ ٹوٹل پیسہ جو ہم دو بھائیوں نے بیجھا ہیں دوبئ سے وہ ہے ٹوٹل 10 لآکھ درہم عمارتی پیسہ ۔۔۔اس میں 8 لاکھ درھم میں نے بیجھے ہے اور دوسرا بھائی نے 2 لاکھ درہم اور جو پاکستان میں ہے اس نے ان 10 لآکھ درہم میں سے 147ہزار درہم نقصان کیا ہے ۔۔یعنی میرا ٹوٹل انکم 15 سالوں میں 8 لاکھ درھم ہےدوسرے بھائی کا ہے 2 لاکھ درہم اور جو پاکستان میں ہے اس نے نقصان کیا ہے 147ہزار درہم ۔ ۔ابھی جو باقی بچا ہے وہ آیک گھر بچا ہے پاکستان میں قیمت تقریب 70 لاکھ روپے پاکستانی ہے اور ایک کپڑے کا دوکان جسکی قیمت تقریب 30 لاکھ روپے ہے ۔جو بھائی پاکستان میں ہے وہ چلا رہے ہے 3 سالوں سے لیکن ابھی تک کچھ فائدہ نہیں دیا گھر کو میں سب سے بڑا بھائی ہو ۔بھائی کے کروبار میں نقصانات کے وجہ سے مجھے سخت ٹنشن ہو گئےہے جسے مجھے شوگر ہو گئ ہے اور دمہ کی بیماری بھی ہے یعنی سانس لینے میں دشواری ہے ۔ابھی میں پردیس میں اور مزدوری نہیں کر سکتا بیماری کہوجہ سے ۔ تو پھر بھائی ابھی کہتے کہ اگر آپ اور مزدوری نہیں کر سکتے تو پھر علیحدہ ہونا ہےیعنی الگ ہو نا ہے اور جو بچاہے اسکو 3 حصوں میں تقسیم کرتے ہے یعنی گھر اور دوکان کو اور جو پیسہ اپکا لگا ہے گھر میں اور جو کاروبار میں نقصان ہوا ہے بھائی کی وجہ سے وہ ھم نہیں مانتے اسکے ھم ذمےدار نہیں میں کہتا ہو کہ جو باقی بچا ہے یہ تو میرے بچوں کا حصہ ہے اس میں آپ بھائیوں کا حصہ نہیں ہیں کیوں کہ سب سے زیادا پیسہ میرا لگاہے 8 لاکھ درھم اور جو گھر لیا یا دوکان بنایا انہی پیسوں سے لیا اور میں اور مزدوری بھی نہیں کرسکتا ۔میری پوری ذندگی کا انکم تو پورا مشترکہ گھر میں خرچہ ہوا ابھی میں اپنے بچوں کو کیا دے دو لیکن دونوں بھائی نہیں مانتے دوسرا بھائی کہتا ہے جو دوبئ میں ہے کہ میرا بھی 2 لاکھ درہم لگا ہے مشترکہ گھر میں میرا بھی پورا حصہ ہے ۔۔ اور جو پاکستان میں ہے اسنے الٹا ھمارا نقصان کیا ہے 147ہزار درہم وہ بھی پورا حصہ مانتے ہے۔۔ ابھی میں بیماری کہ وجہ سے مزدوری بھی نہیں کرسکتا بہت تکلیف ہے سانس لینے میں ۔لیکن وہ نہں مانتے کہ اس میں ہمارا حصہ ہے اور جو نقصان ھوا وہ تو گیا اور جو بچا ہے اس کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں میں کہتا ھو کہ نفع و نقصان دونوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں لیکن بھائی نہیں مانتے ۔مہرابانی کرکے رہنمائی فرمائیں کہ کس بھائی کا کتنا حصہ ہے ۔اس دوکان اور گھر میں اور جو میرا پیسہ نقصان ہوا ہے 8 لاکھ درھم عمارتی پیسہ مشترکہ گھرمیں اسکا کیا ھو گا بہت زیادہ پریشان ہو مہرابانی کرکے رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ شمس الرحمن دوبئی موبائل نمبر 00971503150580

جواب

سوال کی حقیقت تک رسائی نہ ہوسکی ،نیز مسئلہ بھی متنازع فیہا ہے،اس وجہ سے جواب سے معذرت کی جاتی ہے۔


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں