بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

برف سے وضو ءکرنا


سوال

کیا برف سے وضو ء کرنا جائز ہے  جب اس کے  پگھلانے کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہو   اور نہ تیمم کی کوئی صورت موجود ہو یعنی مٹی وغیرہ  نہ ہو   ؟ برائے کرم مذاہب اربعہ کی روشنی میں  رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

               پانی کی موجودگی میں اعضاء وضو کو دھونے کا حکم  ہے اور شرعا   دھونے  کا مفہوم  اس وقت تک متحقق نہ ہوگا جب تک کہ وضو کے عضو کو دھونےکے بعد  کم ازکم اس سے دوقطرے نہ ٹپکیں ، اگر اس قدر بھی تقاطر نہیں ہوا تو دھونے کا فرض ادا  نہ ہوگا۔

          صورت مسؤلہ میں  اگر برف پگھلانے  کا کوئی طریقہ موجود ہو تو   برف پگھلا کر وضو کیا جائے ،اور اگر برف پگھلانا ممکن نہ ہو تو مٹی یا زمین کی جنس سےکسی دوسری چیز سے تیمم کی جائے ، لیکن اگر پانی اورمٹی میسر نہ ہو    تو ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ  نمازیوں کی طرح مشابہت اختیار کرکے نماز مکمل کرے  اور پھروضویاتیمم پر قدرت پانے کے بعد طہارت حاصل کرکے نماز کا اعادہ کرے۔

 

قال الله تعالى: ﴿ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ ﴾ المائدۃ: 6

"أركان الوضوء أربعة وهي فرائضه: الأول" منها "غسل الوجه" لقوله تعالى: {فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ} [المائدة: من الآية 6] والغسل بفتح الغين مصدر غسلته وبالضم الاسم وبالكسر ما يغسل به من صابون ونحوه ‌والغسل ‌إسالة ‌الماء على المحل بحيث يتقاطر وأقله قطرتان في الأصح ولا تكفي الإسالة بدون التقاطر  (مراقي الفلاح،باب فی الوضوء،فصل في احكام الوضوء، ص:35)

وفي ‌جمد ‌أو ‌ثلج ومعه آلة الذوب لا يتيمم وقيل يتيمم والظاهر الأول منهما كما لا يخفى. هكذا في البحر الرائق (الفتاوی الهندية،كتاب الطهارة،باب التيمم،ج:1،ص:81)

(‌والمحصور ‌فاقد) ‌الماء ‌والتراب (الطهورين) بأن حبس في مكان نجس ولا يمكنه إخراج تراب مطهر، وكذا العاجز عنهما لمرض (يؤخرها عنده وقالا: يتشبه) بالمصلين وجوبا، فيركع ويسجد، إن وجد مكانا يابسا وإلا يومئ قائما ثم يعيد كالصوم (به يفتى وإليه صح رجوعه) أي الامام (الدرالمختارعلی صدر ردالمحتار ،كتاب الطهارة،باب التیمم، ج:1 ، ص:423)


فتویٰ نمبر : 9016/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں