بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

لقطہ کے جانور سے فقیر کی قربانی کا حکم


سوال

زید کے گھر میں ایک بکرا کسی اور کا آیا ایک سال مکمل ہوگیا اور زید نے اس کی خوب تشہیر کی لیکن مالک معلوم نہ ہوسکا،اب زید چاہتا ہے کہ یہ بکرا اپنے غریب بھائی کو  دے  دیں،اور  اس کا ایک ریٹ مقرر کرے کہ جب اس کا مالک آئے گاتو میں اس کو اتنے پیسے دونگا تو یہ غریب  بھائی اس بکرےکی قربانی کرسکتا ہے یا نہیں،اور یہ قربانی درست ہے یا نہیں؟ایک مفتی صاحب کا کہنا ہےکہ اگر یہ بکرا پنے بھائی کو مفت میں دے دیں تو یہ جانور جس کا ہے اس کو قربانی کا ثواب مل جائے گا،مفتی صاحب ان دونوں صورتوں کی شریعت کی رو سے وضاحت فرمائیں؟

جواب

                 راستہ میں یا کسی اور جگہ پر کوئی چیز پڑی ہوئی  یا پالتو جانور ملے اور اس کا مالک معلوم نہ ہوتو اسے لقطہ کہتے ہیں،لقطہ کا حکم یہ ہےکہ لقطہ کی نوعیت دیکھ کر اس کی تشہیر کی  جائےجب اتنا وقت گزر جائےکہ لقطہ اٹھانے والے کا غالب گمان ہو جائےکہ اب مالک اس کی تلاش نہیں کرے گاتو لقطہ اٹھانے والا اس کو خوداستعمال کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ فقیر ہو،اگر خود مالدار ہوتو پھر کسی فقیر کو مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت سے دے دے،لیکن صدقہ کرنے کے بعد اگرمالک آجائے ،اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہو،اور ضمان کا مطالبہ کرےتو  تاوان ادا کرنا  ہوگا۔

                صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی زید نے ایک سال تک بکرے کی تشہیر کی ہے ،اور اس کا مالک معلوم نہیں ہوسکا ہےتو اپنے غریب بھائی کو مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت سے دے سکتا ہے،اگر غریب بھائی چاہے تو اس کی قربانی بھی کر سکتا ہے،اور قربانی کا ثواب اس غریب بھائی کو ملے گاکیونکہ جب جانور اس کو دیا جائے تو وہ اس کا مالک بن جائے گا،تا ہم اگر بکرے کا مالک آجائے،اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہو بلکہ ضمان کا مطالبہ کرےتو اگر ابھی تک بکرا زندہ ہو تو اس سے لے سکتا ہے،اور اگر بکرا نہ ہو توزید اس بکرے کی قیمت دینے کا پابند ہوگا۔

 

وإذا ‌رفع ‌اللقطة يعرفها فيقول: التقطت لقطة، أو وجدت ضالة، أو عندي شيء فمن سمعتموه يطلب دلوه علي، كذا في فتاوى قاضي خان. ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع علىالملتقط ‌وإن ‌كانت ‌اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين۔(الفتاوى الهنديه،كتاب اللقطة،ج:2۔ص:299).

إن ‌شاء ‌أمضى الصدقة وله ثواها لأن التصدق وإن حصل بإذن الشرع لم يحصل بإذنه فتيوقف على إجازته والملك يثبت للفقير قبل الإجازة فلا يتوقف على قيام المحل بخلاف بيع الفضولي لثبوته بعد الإجازة فيه،(الهدايه شرح بداية المبتدي،كتاب اللقطه،ج:4،ص:339)


فتویٰ نمبر : 9031/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں