بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

میکےمیں عورت کی نمازکاحکم


سوال

اگرکسی عورت کی شادی اپنےگھرسےدورایسی جگہ ہوجائے،جہاں شرعی سفرکی مقدارپوری ہوتی ہو،اورعورت اپنےوالدین کےگھراپنےوطنِ اصلی آجائے،توپوری نماز پڑھےگی یاقصرکرےگی؟

جواب

                فقہی اعتبارسےوطنِ اصلی اس جگہ کوکہتےہیں،جہاں انسان پیداہواہو،اورمستقل طورپروہاں رہتاہویاکسی اورعلاقےمیں منتقل ہوکراہل وعیال سمیت وہاں رہ رہاہو۔وطنِ اصلی اپنی مثل یعنی وطنِ اصلی کےساتھ باطل ہوتاہے،اس وجہ سےاگرکسی عورت کی شادی  ایسی جگہ ہوجائے،جہاں کی مسافت شرعی مقدارکےبرابرہو،تووہ جگہ اس کے لیےوطنِ اصلی شمارہوتی ہے،اورپہلاوطنِ اصلی اس وطنِ اصلی سےباطل ہوجاتاہے،لہذا ایسی عورت جب والدین کےگھرآجائے،تواگرنیت پندرہ دن سےکم ٹھہرنے کی ہو،توقصرکرےگی،اوراگراس کی نیت پندرہ دن یااس سےزیادہ ٹھہرنے کی ہو،توپوری نماز پڑھےگی۔

 

(والمعتبر نية المتبوع لا التابع كامرأةوعبد،وجندي،وأجيرمع زوج ومولى وأمير ومستأجر)...(الوطن الأصلي)هوموطن ولادته أوتأهله أوتوطنه(يبطل بمثله)إذالم يبق له بالأول أهل فلوبقي لم يبطل،بل يتم فيهما.(الدرالمختارمع تنویرالأبصار،کتاب الصلوۃ،باب صلوۃالمسافر،ج2ص616,614)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر لأنه لا بد من اعتبار مدة لأن السفر يجامعه اللبث.(الھدایة،کتاب الصلوۃ،باب صلوۃالمسافر،ج1ص114)


فتویٰ نمبر : 9020/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں