بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 16/08/2026

دارالافتاء

 

پھوپھی اور ماموں کے مابین حق ولایت کے حقدار کی تعین


سوال

میری پھوپھی کی بیٹی ہےجوکے بالغہ ہے اور اس کے والدین اور داداوغیر ہ سب فوت ہو چکے ہیں صرف دو ماموں اور ایک پھوپھی  زندہ ہے۔ اس لڑکی کی شادی و غیرہ جیسے مسائل کے حقدار کون ہیں ؟ ماموں یا پھو پھی اور شرعااس کی رہائش کس کے ذمےہو گی؟

جواب

              لڑکی جب عاقلہ بالغہ ہو ، تو نکاح وغیرہ کے معاملات میں خود مختار ہوتی ہے ۔ وہ جس کو بھی اپنے نکاح کرانے کااختیار دے ، وہ اس کا نکاح کروا سکتا ہے ۔ تا ہم جوان لڑکی کے لیے اولیا کی رضامندی کے مطابق نکاح کرنا بہتر اور مستحسن ہے ۔ نکاح میں ولی عصبہ بنفسہ ہوتے ہیں، یعنی باپ، بیٹا، بھائی اور چچاو غیرہ، پھر ان میں سے قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو ولایت نہیں رہتی۔

                 صورت مسئولہ میں اس بالغہ لڑکی کو اپنے نکاح کرانے کا اختیار خود حاصل ہے ۔ کوئی بھی فرد اس پر زبر دستی نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر لڑکی کے اولیا فوت ہو گئے ہوں تو خاندان کے دیگر افراد کے مشورے سے نکاح کر نازیادہ بہتر ہے ۔ نیزرہائش اختیار کرنے میں بھی یہ لڑکی خود مختار ہے ، جہاں رہنا چاہتی ہے رہ سکتی ہے اور خرچ اس کے اپنے مال سے ہو گا۔

 

ولا تجبر بكر بالغة على النكاح(البحرالرائق شرح كنزالدقائق كتاب النکاح، باب الأولياء والأکفاء في النكاح،ج:3 ص:318)

الولي في النكاح العصبة بنفسه(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب النكاح، باب الولي،ج:3 ص:5)

(ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة "ردالمحتارعلى الدر المختار، كتاب النكاح، باب الولی،ج:3 ص: 55


فتویٰ نمبر : 6358/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں