بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی منڈوانے والے شخص کو مسجد انتظامیہ کا ممبر بنانا


سوال

جس شخص کی داڑھی مٹھی سے کم ہو، کیا اس کو مسجد انتظامیہ کا رکن بنانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ مسجد کمیٹی کے انتخاب کا شریعت میں کوئی متعین طریقہ نہیں ہے، تاہم مسجد کمیٹی کے لیے ایسے افراد کو منتخب کرنا چاہئے، جو دین دار اور دیانت دار ہوں، اور خدمت ِدین کا جذبہ رکھتے ہو، نیزتجربہ کار ہوں،  ان کے اندر انتظامی امور کو سمجھنے اور انہیں انجام دینے کی صلاحیت بھی ہو۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق  اگرچہ   داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم السلام  کی سنت ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کے اپنانے کی  اپنی امت کو ہدایات دی ہیں اور اس کے رکھنے  اور بڑھانے کا حکم دیا ہے،  چنانچہ  داڑھی منڈوانا موجب فسق ہے، تاہم اگر کوئی شخص  داڑھی منڈوانے کے علاوہ  دیانت دار، تجربہ کار، اور انتظامی امور چلانے میں ماہر ہو، تو اس کو انتظامیہ کمیٹی کا رکن بنانے کی گنجائش ہے۔

 

الصالح للنظر من لم يسأل الولاية للوقف وليس فيه فسق يعرف هكذا في فتح القدير وفي الإسعاف لا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه ( الفتاوی الھندیة ، کتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف وتصرف القيم في الأوقاف، 2، ص:380)

عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الأظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء " قال زكريا: قال مصعب: ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة ( الصحیح لمسلم، کتاب الطھارۃ، باب السواک من الفطرۃ، ج:1، ص: 162)


فتویٰ نمبر : 4909/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں