بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کو مسجد کمیٹی کا رکن بنانا


سوال

کیا  عورت مسجد کمیٹی میں  صدر یا ممبر بن سکتی ہے یا نہیں؟ اگر بن سکتی ہے تو کن شرائط کے ساتھ؟

جواب

            واضح رہے کہ حضور اکرم ﷺ کے پاکیزہ دور میں بعض مصالح (مثلاً خواتین کے لیے اسلامی عقائد اور اَحکام کی تعلیم) کی خاطر عورتوں کو مسجد میں آکر نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے اور اسلامی احکام کی تکمیل اور تعلیم کا مقصد پورا ہونے کے بعد جب عورتوں کے خروج کی ضرورت بھی نہ رہی اور ماحول کے بگاڑ کی وجہ سے فتنے کا اندیشہ ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کو مسجد  میں حاضر ہونے سے منع فرمادیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اعتراض نہیں کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنے  کے لیے مسجد جانا  درست نہیں۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق کسی عورت کا  مسجد کے شوریٰ کا ممبر یا صدر بننے کی صورت میں گھر سے نکلنے کی ضرورت ہوگی، جس سے  مفاسد کا قوی اندیشہ ہے،   نیز مسجد کے معاملات کو مرد ہی بہتر طریقے سے سمجھ کر اس کا حل ڈھونڈ سکتے  ہیں ، اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ تمام معاملات مرد ہی انجام دیں۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، قالت: «لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل» قلت لعمرة: أومنعن؟ قالت: نعم ( الصحیح للبخاری، کتاب الأذان،باب خروج النساء  الی المساجد ، ج:1، ص: 120)

وعن أبي بكرة قال : لما بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أهل فارس قد ملكوا عليهم بنت كسرى قال : " لن يفلح قوم ولوا أمرهم امرأة "( مشکوۃ المصابیح،  کتاب الحدود، کتاب الامارۃ والقضاء، ج: 2، ص: 343)

لا تصلح المرأة أن تكون إماما، ولا قاضيا ; لأنهما محتاجان إلى الخروج للقيام بأمور المسلمين، والمرأة عورة لا تصلح لذلك، ولأن المرأة ناقصة ; والقضاء من كمال الولايات ; فلا يصلح لها إلا الكامل من الرجال.( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الحدود،  کتاب الامارۃ والقضاء، ج:7، ص:270)

(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان،( ردالمحتار علی الدرالمختار ، کتاب الصلوۃ ، باب الامامۃ، ج:2،ص:307)


فتویٰ نمبر : 4908/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں