بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی کے نسبی بھائی سے نکاح کرنا


سوال

نسرین کے بیٹے نعمان نے فرمین کادودھ پیا ہے، اب فرمین کی بیٹی کا نکاح نسرین کے دوسرے بیٹے (نصیر)کے ساتھ ہوا چاہتا ہے۔ کیا یہ نکاح ازروئے شریعت درست ہے یا نہیں؟

جواب

                 اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پلانے والی کے اصول وفروع اس بچے پر اور دودھ پینے والے کے فروع پلانے والی پر حرام ہوجاتے ہیں، تاہم دودھ پینے والے کی بہن، بھائی کی طرف حرمت کا یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔لہذا فرمین کی بیٹی کا نکاح نسرین کے دوسرے بیٹے (نصیر) کے ساتھ شرعا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى۔ (رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410)


فتویٰ نمبر : 6350/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں