بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

وطن سکنی سے مسافت شرعی سے کم سفر کرنے والے کے لیے اتمام یا قصر کا حکم


سوال

ایک آدمی اپنے گاؤں سے تقریبا 65 کلو میٹر  دور فاصلہ پر پولیس  ٹریننگ میں مصروف تھا اسی ٹریننگ  کے دوران  وہ اسی  جگہ سے ڈیوٹی کے لیے  کچھ دن  تقریبا 18 یا 20  کلو میٹر دور گیا  جو کہ گاؤں سے تقریبا  کل فاصلہ 83 یا 85 کلو میٹر بنتا ہے ۔تو اب اسی عارضی  مقام پر قصر کرے گا یا اتمام کرے گا، نیز اس نے کسی عالم سے بذریعہ دوست پوچھا تھا اس نے کہا کہ وہ قصر کرے گا ۔اب  اگر اس کی نماز میں اتمام لازم ہو  تو ان ایام میں جو اس نے قصر کی ہے،ان نمازوں کا  اعادہ  ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہےکہ اگر کسی شخص کا شرعی سفر کی مسافت کے بقدر سفر کرنے کا ارادہ نہ ہو تو یہ شخص مسافر شمار نہیں ہوگااور مسافت شرعی کا اعتبار اس جگہ سے ہو گا  جس جگہ سے وہ روانہ ہو جائے ،چاہےوہ جگہ اس کا وطن اصلی ہو یا طن اقامت ہو یا وطن سکنی  ۔  

             صورت مسئولہ کے مطا بق اگر وطن اصلی سے 65 کلو میٹر دور فاصلہ پر وطن سکنی میں مصروف شخص اسی ٹریننگ کے دوران مزید 18 یا 20 کلو میٹرکے  فاصلے پر  ایک ہفتہ کے لیے چلا گیا ہو تو ا س شخص پر شرعی سفر کے احکام جاری نہ ہوں گے ،لہذایہ شخص  پوری نماز پڑھے گا ۔چنانچہ اگر اس  نے اتمام  کی بجائے  قصر نماز ادا کی ہو تو اس  پر ان   نمازوں کی قضا لازمی ہے۔

 

ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر قال ابن عابدين:(قوله: بلا قصد) بأن قصد بلدة بينه وبينها يومان للإقامة بها فلما بلغها بدا له أن يذهب إلى بلدة بينه وبينها يومان وهلم جرا. ح. قال في البحر: وعلى هذا قالوا أمير خرج مع جيشه في طلب العدو ولم يعلم أين يدركهم فإنه يتم وإن طالت المدة أو المكث؛ أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر،ج:2،ص:601)

(ولَا يَزَالُ عَلَى حُكْمِ السَّفَرِ حَتَّى يَنْوِيَ الْإِقَامَةَ فِي بَلْدَةٍ أَوْ قَرْيَةٍ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَوْ أَكْثَر)َ۔( الهداية ،كتاب الصلوة ،باب صلوة المسافر، ج:1،ص:174)

(من خرج من عمارة موضع إقامتهه قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعي ركعتين)۔(تنوير الأبصار على صدر ردالمحتار،كتاب الصلاة،باب صلاة المسافر،ج:2،ص:599۔603)


فتویٰ نمبر : 9002/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں