بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

مال ِ مضاربت کو کرایہ پر دے کر نفع کمانا


سوال

اگر کوئی کسی کو مضاربت پر پیسے دے کہ وہ اس سے کراکری کا سامان خریدے اور کرائے پر دیا کرے، تو کیا  اس طرح  مضاربت کا عقد ہو سکتا ہے؟

جواب

                فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق کسی ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے شخص کی محنت و عمل سے چلنے والا کار و بار مضاربت کہلاتا ہے۔اگر رب المال نے عقد کے وقت کسی مخصوص کام کی تعیین نہ کی تو مضارب کو عقد مضاربت میں یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ  وہ چاہے تو اس مال مضاربت سے کوئی بھی سامان خریدکر بیچ دے، اسی طرح  سامان کی حفاظت اور اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کوئی مکان یا سواری کرایہ پر لےسکتا ہے،اسی طرح کوئی سامان خرید کر اس کو کرایے پر بھی دے سکتا ہے۔ اوراگر رب المال نے عقد کی وقت کسی مخصوص کام کی تعیین کی ہو تو پھر مضارب مال مضاربت کواس کے علاوہ  دوسرے کام میں استعمال نہیں کر سکتا۔ 

            صورت مسٔولہ کے مطابق اگر کوئی کسی کو مضاربت پر پیسے دے کہ وہ  کراکری کا سامان خرید کر کرائے پر دیا کرے، اور منافع باہم تقسیم کریں گےتو اس طرح عقد مضاربت درست ہے۔ 

 

الأصل أن ما يفعله المضارب ثلاثة أنواع:نوع يملكه بمطلق المضاربة وهو ما يكون من باب المضاربة وتوابعها وهو ما ذكرنا، ومن جملته التوكيل بالبيع والشراء للحاجة إليه والرهن والارتهان لأنه إيفاء واستيفاء والإجارة والاستئجار والإيداع والإبضاع والمسافرة۔ (الهداية، كتاب المضاربة، باب المضارب يضارب، ج:3، ص:270)

وإذا دفع إلى رجل مالا مضاربة ولم يقل اعمل فيه برأيك فله أن يشتري به ما بدا له من أصناف التجارة ويبيع؛ لأنه نائب عن صاحب المال في التجارة " فإن قصده بالدفع إليه تحصيل الربح وذلك بطريق التجارة فكذلك ما هو من صنع التجار يملكه المضارب بمطلق العقد ويبيع بالنقد والنسيئة عندنا۔۔۔ وله أن يستأجر معه الأجراء يشترون ويبيعون ويستأجر البيوت والدواب لأمتعته التي يشتريها؛ لأن ذلك من صنع التجار. فالمضارب لا يستغني عن ذلك في تحصيل الربح، وللمنافع حكم المال عند العقد، والإجارة والاستئجار تجارة من حيث إنه مبادلة مال بمال۔ (المبسوط للسرخسي، كتاب المضاربة، باب ما يجوز للمضاربة في المضاربة، ج:22، ص:38)


فتویٰ نمبر : 2965/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں