بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پاسپورٹ پر گاڑی خرید نے کے عوض رقم وصول کرنا


سوال

ایک شخص دبئی میں  کام کرتا ہے اور سالانہ چھٹی پر  گھرآیا تو   اپنا پاسپورٹ ایجنسی  والوں  کو دی(چھٹیوں کے بقدر آیام  کے لیے ) اور اس کے عوض  ایجنسی والوں سے بیس  (20)یا تیس(30) ہزار روپے وصول کیےاور ایجنسی   والے اس پاسپورٹ کے ذریعے  دبئی میں گاڑی    خریدتےہیں  اور انھیں  پاکستان  امپورٹ کرتے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا  اس شخص کا یہ  بیس(20)   ہزار روپے لینا شرعا درست ہے کہ نہیں؟

جواب

                شریعت مطہرہ کی روسے خدمات یا منافع کے عوض اجرت حاصل کرنا  اجارہ کہلاتا ہے ، عقد اجارہ کی شرائط میں  سے یہ بھی ہے کہ معقود علیہ مال متقوم ہو اور اس سے حاصل      کی جانے والی منفعت منفعت  مقصودہ ہو چونکہ حکومت کی جانب  سے پاسپورٹ کا جاری کرنا آمدورفت کے لیے ہوتا ہے اور اس کی خرید وفروخت کی کوئی اجازت نہیں  ہوتی ،اس لیے یہ کوئی مال متقوم نہیں  اور نہ  ہی اس سے گاڑی منگوانا کوئی منفعت مقصودہ ہے۔

              صورت مسؤلہ کے مطابق کسی  ایجنسی کو اپنا پاسپورٹ اس لیے دینا کہ وہ اس پر باہر سے گاڑی پاکستان لائے اور محض اس پاسپورٹ دینے کے عوض اجرت کی لین  دین   جائز نہیں  ،تاہم  اگر حکومت کی جانب  سے دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے پر پابندی نہ ہو تو  بغیر کسی اجرت کے کسی دوسرے کے پاسپورٹ کو استعمال میں  لا کر گاڑی منگوانا جائز ہے، لیکن  اگر حکومت کی جا نب  سے اجازت نہ ہو  تواس کام  میں جھوٹ،دھوکہ اور قانون کی خلاف ورزی شامل ہے ،لہذا ایسی صورت میں  کسی دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانا جائز نہیں۔

 

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض۔(بدائع الصنائع،كتاب السير،فصل في بيان احكام البغاة،ج:7،ص:140)

ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال۔(بدائع الصنائع،فصل واماالذي يرجع إلی المقصود عليه،ج:5،ص:549)

وفي الاشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة،وعلی هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالاوقاف۔(الدرالمختار علی التنویر الأبصار،كتاب البيوع،ج:4،ص:518)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها۔(الفتاوی الهندية،الباب الثاني في بيان انه متی تجب الأجرة۔ج:4،ص:413)


فتویٰ نمبر : 2955/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں