بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

گاؤں عبدالخیل لکی مروت میں نماز جمعہ


سوال

ہمارے گاؤں  عبد الخیل لکی مروت کی کل آبادی ماضی قریب (2017) میں کی گئی، مردم شماری کے مطابق  4940 تھی، اور اب ظاہر ہےکہ 5000 سے متجاوز ہوگی۔ جس میں کل 10 مساجد ہیں، اور تقریبا ہر مسجد میں بچوں کے لیے درس یعنی حفظ وناظرہ کا اہتمام بھی ہے، جبکہ باقاعدہ طور پر دو(2) مدرسے ہیں، جن میں رہائشی اور مسافر طلبانہیں ہوتے۔ عصری تعلیم کے لیے ایک ہائیر سکینڈری اسکول، تین (3) پرائمری اسکول لڑکوں کے لیے، ایک پرائمری اسکول لڑکیوں کے لیے ، جبکہ ایک گرلذ مڈل اسکول ہے۔اسی طرح گاؤں میں کل تقریبا40 (چاليس)  جنرل سٹور ہیں، جن میں سے دو(2) کے اندر ایزی لوڈ اور ایزی پیسہ کی سہولت موجود ہے۔تين  (3)میڈیکل سٹور، نو (9) کپڑوں کی دکانیں ، چار (4) ٹیلر ماسٹر ہیں، جبکہ ویلڈنگ ، فریج، واشنگ مشین وغیرہ اور موٹر سائیکل میکینک کی سہولت بھی موجود ہے، اور یہ تمام دکانیں متصل نہیں ہیں۔ دو (2) پنکچر کی دکانیں، دڈیزل ایجنسیاں اور دو (2)آٹے کی چکیاں بھی ہیں۔ ایک پرائیویٹ  ڈاکخانہ اور دو ٹیوب ویل بھی ہیں جس سے لوگ پانی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ایک B.H.U ہسپتال ہے جس میں ایک ماہر MBBS ڈاکٹر موجود ہوتا ہے، اور ایک چھوٹا ہوٹل بھی موجود ہے۔اس کے علاوہ ہمارے جو دیگر بڑے معاملات ہوتے ہیں، جیسے قضا اور عدالت وغیرہ اس کے لیے لکی مروت شہر جاتے ہیں، جوکہ 27 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اور تھانے کی ضرورت شہباز خیل سے پوری ہو جاتی ہے، جو کہ 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پوری صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ گاؤں میں جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ہمارے گاؤں کے تقریبا دس (10) ڈاٹسن ہیں ،جو صبح کے وقت (10 بجے تک) لکی مروت شہر یا درہ وغیرہ جاتے ہیں،  جس کے بعد عموما لوکل سواری نہیں ملتی ، البتہ سکینڈ ٹائم میں اگر کسی کو ضرورت پیش آجائے ، تو ذاتی سواری یا ٹیکسی کے ذریعے ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔جہاں تک اہل خرفت كي بات ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے، موچی، نائی اور لوہار کے مستقل طور پر پیشہ ور افراد موجود نہیں ہے، البتہ موچی اور نائی کا کام ضرورت کے درجہ میں ہوتا ہے، مستقل طور پر ان کی دکانیں نہیں ہے ، جب کہ پیشہ ور ترکھان  باقاعدہ طور پر موجود ہے۔

جواب

             واضح رہے کے نماز جمعہ کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے، کہ جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو وہ جگہ شہر ہو یا توابع شہر میں سے ہواور یا بڑا گاؤں ہو، موجودہ دور میں فقہا کرام کے نزدیک بڑا گاؤں وہ ہے جس میں ضروریات زندگی میسر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی آبادی کم از کم دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو، لہذا اگر کسی گاؤں میں ضروریات زندگی میسر ہونےكے ساتھ ساتھ  اسکی آبادی دو ڈھائی ہزار سے زیادہ ہو تو وہاں پر نماز جمعہ پڑھنا جائز ہے۔

           صورت مسٔولہ کے  مطابق مذکورہ گاؤں (عبدالخیل لکی مروت) میں اگر واقعی زندگی کی روزمرہ ضروریات میسر ہونے کے ساتھ اس کی آبادی  پا نچ ہزار(5000) سے زیادہ ہے تو اس میں جمعہ پڑھنا لازم ہے۔

 

لاتجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها۔ ( بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:259)

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔ (رد المحتار، كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2، ص:138)


فتویٰ نمبر : 8999/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں