بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

وكيل كا بغير كسی تعیین كے خريداری كرنا


سوال

ازید،عمرو اور بکر تینوں بھائیوں نے باہمی مشاورت سے تین چھوٹے جانور قربانی کے لئے خریدنے کا ارادہ کیا،اور تینوں نے اپنے اپنے حصے کے پچیس/25 ہزار روپیہ زید کو دیکر وکیل بنا کر منڈی  بھیج دیا،زید (وکیل)نے تین جانور خریدے،اور اپنے لئے ایک جانور متعین کر دیا،اور باقی دونوں کو بغیر تعین گاڑی میں لیکر گھر  کی طرف روانہ  کیا،راستہ میں ایک جانور ان دو میں سے گاڑی سے گر  مر گیا تواس صورت میں جو ایک جانور رہ گیاہے یہ کس کو ملے گا؟

جواب

               فقہاے کرام لکھتے  ہیں کہ اگر چند افراد مل کر اپنے لئے الگ الگ جانور خرید لیں جو ظاہری  جسم و صورت میں یکساں ہوں ،جس کی وجہ سے ان میں تعیین کرنا مشکل ہو،اور ان کو ایک جگہ پر باندھ لیں پھر ان میں سے ایک جانور مر جائے،اور یہ معلوم نہ ہو پا رہا ہوکہ مرنے والا جانور کس کی ملکیت میں ہےتو باقی ماندہ جانور کو فروخت کر دیا جائے گا،اور ان پیسوں سے اتنےہی  جانور خرید لئےجائیں جتنے افراد ہوں،پھر ان میں سے ہر ایک اپنے دوسرے ساتھیوں  کو ان میں سے ہر ایک جانورذبح کرنے کاوکیل بنا دے،اور گوشت کے استعمال کی بھی اجازت دے دے ،اس طرح سب کی قربانی ہو جائےگی۔

              صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ وکیل نے اپنے لئے جانور متعین کیا ہے،اور باقی دو جانور اپنے دو بھائیوں کی نیت سے خریدے ہیں تا ہم ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک ایک جانور کی تعیین نہیں کی ہےتو بظاہر یہ صورت فقہاے کرام کے ذکر کردہ مذکورہ بالا صورت کی طرح ہے ،لہذا تعین کرنے سے پہلے جب ان میں سے ایک  جانور مر گیا، تو اس جانور کو فروخت کرکے ان پیسوں سے دو نئے جانور خرید لئے جائیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے دوسرے بھائی کو ذبح کرنےکا وکیل بنا دے،اورگوشت کے استعمال کی بھی اجازت دے دے،اس طرح دونوں بھائیوں  کی طرف  سے قربانی ہو جائےگی۔

 

وفي ‌مجموع ‌النوازل أربعة نفر اشترى كل واحد منهم شاة ولبنها وسمنها واحد فحبسوها في بيت فلما أصبحوا وجدوا واحدة منها ميتة ولا يدرى لمن هي، فإنها تباع هذه الأغنام جملة ويشترى بقيمتها أربع شياه لكل واحد منهم شاة، ثم يؤكل كل واحد منهم صاحبه بذبح كل واحدة منها ويحلل كل واحد منهم صاحبه لتجوز عن الأضحية(تكملة البحر الرائق للطوري،كتاب الأضحية،ج:8،ص:328)

"المال الذي قبضه الوكيل بالبيع  والشراء وابقاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكاله في حكم الوديعة في يده فاذا تلف بلا تعد  ولا تقصير لا يلزم الضمان والمال الذي في يد الرسول  من جهة الرسالة ايضا في حكم الوديعة"(شرح المجلة ،كتاب الوكالة،الفصل الاول في بيان احكام الوكالةالعمومية،المادة:1463،ج:4،ص:432)


فتویٰ نمبر : 2958/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں