بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گواہ کے شرائط


سوال

ذید کی زمین ہے اور یہ زمین 30سال قبل بکر کردیا۔پھر بکر نے آگے عمرو پر فروخت کیا۔اب ذید کہتا ہے کہ یہ زمین تو بکر کے ساتھ گروی تھا جبکہ بکر کہتا ہے کہ یہ میں نے آپ سے خریدا ہے اور عمرو کو بطور گواہ کے پیش کرتا ہے۔۔۔۔ تو سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں عمرو کی گواہی شرعا قبول ہے یا نہیں۔۔۔

جواب

سوال متنازع ہونے کی وجہ سے جواب سے معذرت کی جاتی ہے۔


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں