بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

مسنون اعتکاف کی قضاکاطریقہ کار


سوال

اگرایک آدمی رمضان کےآخری عشرہ کامسنون اعتکاف شروع کرے،پھرکسی عذرکی بناپراعتکاف کوتوڑدے،تواس آدمی پراس اعتکاف کی قضالانی ہوگی یانہیں،اگراس پرقضالازم ہوتواس کاطریقہ کیاہوگا؟

جواب

                 رمضان کےآخری عشرہ کااعتکاف سنتِ مؤکدہ ہے،اورسنت اعتکاف کوشروع کرنےکےبعدتوڑدینا،چاہےکسی عذرکی وجہ سےہویاعذرکےبغیر،دونوں صورتوں میں اس ایک دن کی قضالاناواجب ہوگا،جس دن اعتکاف توڑاہو،اورقضاچاہےرمضان میں کرےیاغیررمضان میں،دونوں جائزہے،البتہ اعتکاف کےساتھ روزہ رکھناضروری ہے۔

 

وسواء فسد بصنعه من غير عذر كالخروج والجماع والأكل والشرب في النهار إلا الردة أو فسد بصنعه لعذر كما إذا مرض فاحتاج إلى الخروج فخرج أو بغير صنعه رأسا كالحيض والجنون والإغماء الطويل لأن القضاء يجب جبرا للفائت والحاجة إلى الجبر متحققة في الأحوال كلها.(بدائع الصنائع،کتاب الاعتکاف،فصل:وأمابیان حکمه إ ذاأفسد،ج3ص34)

والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيما عندهما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه.(ردالمحتار،کتاب الاعتکاف،ج2ص445)


فتویٰ نمبر : 8993/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں