بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

روحانى علاج پر اجرت لینے کاحکم


سوال

ہم جب  کسی عامل کے پاس اپنے روحانی علاج یعنی نظر ،سحر، جاود وغیرہ کے علاج کے لئے جاتے ہیں تو وہ عامل حضرات علاج کے بہانے سے  دو کلو گوشت یا 40کبوتر کو دانے ڈالنے کے لئے یا الو کو خریدنے کے لئے کچھ خاص پیسے مانگتے ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ان کا لینا جائز ہے ؟ جب کہ علاج بھی نہ ہو تو کیا یہ پیسے عامل اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا ان کاواپس لوٹانا ضروری ہے؟

جواب

            متعدد روایات اور فقہاے کرام کی عبارات سے دم اور تعویذ کے بدلے اجرت  لینا ثابت ہے ،نیز قرآنی آیات اور دیگر ماثور اوراد  و وظائف کا اپنا ایک خاص اثر ہوتا ہے ،چنانچہ ان کے ذریعے دم کرنے سے اگراللہ تعالی چاہیں تو مرض سے شفا مل جاتی ہے ۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی احکام شرعیہ کے پابند او رمتبع السنۃعامل نے پہلے سے اپنی اجرت متعین کی ہو یا اس کی اجرت معلوم ومعروف ہو اور دم کرنے کے بعد اجرت وصول کر لےتو  علاج سے فائدہ نہ ہونے کی صورت میں عوض کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہ ہو گا ،کیونکہ عامل نےاپنا وقت اور تجربہ بہرحال صرف کیا ہے۔

 

عن أبي سعيد رضي الله عنه، قال: انطلق نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في سفرة سافروها، حتى نزلوا على حي من أحياء العرب، فاستضافوهم فأبوا أن يضيفوهم، فلدغ سيد ذلك الحي، فسعوا له بكل شيء لا ينفعه شيء، فقال بعضهم: لو أتيتم هؤلاء الرهط الذين نزلوا، لعله أن يكون عند بعضهم شيء، فأتوهم، فقالوا: يا أيها الرهط إن سيدنا لدغ، وسعينا له بكل شيء لا ينفعه، فهل عند أحد منكم من شيء؟ فقال بعضهم: نعم، والله إني لأرقي، ولكن والله لقد استضفناكم فلم تضيفونا، فما أنا براق لكم حتى تجعلوا لنا جعلا، فصالحوهم على قطيع من الغنم، فانطلق يتفل عليه، ويقرأ: الحمد لله رب العالمين فكأنما نشط من عقال، فانطلق يمشي وما به قلبة، قال: فأوفوهم جعلهم الذي صالحوهم عليه، فقال بعضهم: اقسموا، فقال الذي رقى: لا تفعلوا حتى نأتي النبي صلى الله عليه وسلم فنذكر له الذي كان، فننظر ما يأمرنا، فقدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له، فقال: وما يدريك أنها رقية، ثم قال: قد أصبتم، اقسموا، واضربوا لي معكم سهما، فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم۔(الصحيح للبخاري،كتاب الإجارة، باب ما يعطى في الرقية على أحياء العرب بفاتحة الكتاب،رقم الحديث:2276،ج:2،ص:601)

جوزوا الرقية بالأجرة ولو بالقرآن كما ذكره الطحاوي؛ لأنها ليست عبادة محضة بل من التداوي.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الإجارة،باب إجارة الفاسدة،ج:9،ص:78)


فتویٰ نمبر : 2982/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں