بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

امام يا مقتديوں كا صف كے كسی ایک جانب کھڑا ہونا


سوال

 امام کے پیچھےصف میں مقتدیوں کا ایک ہی جانب کھڑاہونانماز میں کمی کا باعث ہے یا نہیں؟اور امام کی جگہ صف سے آگےپچھلی صف کے بالکل درمیانی جگہ کے موافق ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

                   نماز باجماعت میں صفوں کی درستگی آداب جماعت میں سے ہے جس کےلیے ضروری کہ جماعت کھڑے ہوتے وقت اگر کوئی عذر نہ ہوتو امام کے پیچھے دائیں بائیں مقتدی برابر ہوں،جماعت کھڑے ہونے کے بعد جو شریک ہونگےان کو بھی یہ لحاظ رکھناچاہیے ۔اسی طرح امام کے لیے بھی سنت  ہے کہ ایسی جگہ کھڑا ہو جائے جس کے دونوں جانب مقتدی برابر ہوں،لہٰذا اگربلا  عذر  امام یا مقتدی صف کے کسی ایک  جانب کھڑے ہو ں تو خلاف سنت ہونے کی وجہ سےاس طرح کرنا مکروہ ہوگا  ۔

 

عن أبي هريرة ؓ قال:قال رسول اللهﷺ"وسطواالإمام وسدواالخلل"(سنن أبی داؤد،کتاب الصلوٰۃ،باب مقام الإمام من الصف،ج:1،ص:99،ایچ ایم سعید)

"وسطواالإمام وسدواالخلل" أي اجعلواإمامكم بأن تصفوا خلفه بحيث يكون الإمام حذاء وسط الصف ويكون من عن يمينه من الرجال ومن عن يساره سواء۔(بذل المجهود في حل أبي داؤد،باب مقام الإمام من الصف،ج:4،ص:348،دارالكتب العلمية بيروت)

السنة أن يقوم الإمام في المحراب ليعتدل الطرفان،ولوقام في أحد جانبي الصف يكره۔(ردالمحتارعلیٰ الدرالمختار،باب الإمامة،ج:2،ص:310، دارالكتب العلمية بيروت)

ولو قام الإمام وسط القوم أو قاموافي ميمنةأوميسرة فقد أساءوا۔(الفتاوی التاتارخانية،فصل في بيان مقام المأموم،ج:2،ص:274،رشيديه)      


فتویٰ نمبر : 9004/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں