بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عیسائی یا یہودی کا نکاح کا گواہ بننا


سوال

 کیا عیسائی اور یہودی نکاح کے گواہ بن سکتے ہیں؟

 

جواب

          مسلمان لڑکے اور لڑکی کے نکاح کے گواہان کا  مسلمان، عاقل، بالغ ہونا شرط ہے،غیر مسلم گواہوں کی موجودگی میں مسلمان کا نکاح صحیح نہیں ہوتا کیونکہ کافر کی گواہی مسلمان کے معاملہ میں قابل قبول نہیں۔

            لہذا محض عیسائی یا یہودی کے نکاح میں گواہ بننے سے مسلمان کا نکاح  منعقد نہیں ہوگا۔البتہ اگر نکاح کی مجلس میں دو یا زیادہ مسلمان مرد يا ايك مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتيں موجود ہوں جو کہ لڑکا اور لڑکی کے ایجاب اور قبول کو سن لیں، اگرچہ ان کو مستقلاً گواہی کے لئےمنتخب نہ کیا گیا ہو تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔

 

وأما صفات الشاهد الذي ينعقد به النكاح ۔۔۔ ومنها الإسلام في نكاح المسلم المسلمة فلا ينعقد نكاح المسلم المسلمة بشهادة الكفار؛ لأن الكافر ليس من أهل الولاية على المسلم قال الله تعالى {ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا} [النساء: 141] وكذا لا يملك الكافر قبول نكاح المسلم ولو قضى قاض بشهادته على المسلم ينقض قضاؤه.( بدائع الصنائع، فصل في صفات الشاهد، ج:3، ص: 395)

(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.( الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب النكاح، ج: 1، ص: 87)


فتویٰ نمبر : 6346/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں