بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مسجد ميں اگر بتی جلانا
سوال
مسجد میں اگر بتی جلانا شرعا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
مساجد کو پاک اور خوشبودار رکھنا پسندیدہ امر ہے، کیونکہ رسول اللہ حکم فرماتے تھے کہ مساجد کو پاک اور خوشبودار رکھو، لہذا مسجد میں اس نیت سے اگر بتی جلانا کہ مسجد کو خوشبودار رکھا جائے شرعا جائز ہے، تاہم اس بات کا انتظام کیا جائے کہ راکھ مسجد میں نہ گر ے، البتہ اگر اگربتی کا بو ایسا ہو جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو تو پھر مسجد میں اس کا استعمال ممنوع ہوگا۔
عن عائشة قالت: أمر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ببناء المسجد في الدور وأن تنظف وتطيب.(سنن أبي داود، باب اتخاذ المساجد في الدور، رقم الحديث:453)
قال القاري: قال ابن حجر: وبه يعلم أنه يستحب تجمير المسجد بالبخور، فقد كان عبد الله يجمر المسجد إذا قعد عمر -رضي الله عنه - على المنبر، وقد استحب بعض السلف تخليق المسجد بالزعفران والطيب(بذل المجهود في حل أبي داود،باب اتخاذ المساجد في الدور،ج:3، ص:178)
وعن جابر رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من أكل من هذه الشجرة المنتنة، فلا يقربن مسجدنا، فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنس ).متفق عليه.
(المنتنة) أي: الثوم، ويقاس عليه البصل والفجل، وما له رائحة كريهة كالكراث. قال العلماء: ومن ذلك من به بخر مستحكم وجرح منتن (فلا يقربن مسجدنا) قيل: النهي يتعلق بكل المساجد، فالإضافة للملك، أو التقدير: مسجد أهل ملتنا؛ لأن العلة وهي (فإن الملائكة تأذى) وفي نسخة صحيحة: (تتأذى) أريد بهم الحاضرون موضع العبادات عامة توجد في سائر المساجد فيعم الحكم، ويدل هذا التعليل على أنه لا يدخل المسجد وإن كان خاليا من الإنسان لأنه محل ملائك۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاۃ، ج:2، ص:598)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں