بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عقیقہ کےگوشت سےمہمانوں کے لیے دعوت کرنا


سوال

کیادعوت میں عقیقہ کا گوشت مہمانوں کو کھلا یا جاسکتا ہے یا ان کے لیے الگ سے کچھ انتظام کرناچاہیے ؟

جواب

              واضح رہے کہ عقیقہ کے گوشت کا حکم وہی ہے جو  قربانی کے گوشت کا ہےیعنی اس کا  ہدیہ کرنا،خیرات کرنا ،خود کھانایا مہمانوں کو کھلانا سب جائز ہے۔لہٰذا عقیقہ کے گوشت سے مہمانوں کے لیے دعوت  کرکے ان کو کھلانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

 

  وسبیلھا فی الأکل والھدیۃ والصدقۃ سبیل الأضحیۃالا انہاتطبخ۔۔۔وإن طبخها ودعا إخوانه فأكلوا فحسن۔(أوجز المسالک،ج:9،ص:221)

وهي شاةتصلح للأضحیۃ  تذبح للذكر والأنثیٰ  سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه، بحموضة أو بدونها، مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا۔(رد المختارعلی الدر المحتار،كتاب الأضحیۃ،خاتمۃ،ج:9،ص:485،دار الكتب العلمية)

وانہ یستحب الأکل منھا والتصدق کما فی الأضحیۃ ۔۔۔یصنع بالعقیقۃ ما یصنع بالأضحیۃ ۔۔۔وفی قولہ:’’یأکل أھل العقیقۃ ویھدونھا دلیل علی بطلان ما اشتھر علی الألسن:أن أصل المولود لا یأکلون منھا فإن أھل العقیقۃ ھم الأبوان أولا ثم سائر أھل البیت۔(إعلاء السنن،باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ فی العقیقۃ،ج:17،ص:140،دار الكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 4905/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں