بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں مسجد میں ٹھہرنا


سوال

 اگر کسی تبلیغی ساتھی یا طالب علم کو آدھی رات مسجد میں احتلام ہو جائے اور باہر عنقریب گرم پانی کا بندوبست بھی نہ ہو، نیز بقیہ رات آرام کرنے کی متبادل جگہ نہ ہو تو کیا اس صورت میں وہ جنابت کی حالت میں مسجد ميں ٹھہر سکتا ہے؟

جواب

             کسی شخص کو مسجد میں احتلام ہو جائے تو اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ تیمم کر کے فوراً مسجد سے باہر نکل جائے اور غسل کا انتظام کرے، اور اگر تیمم کئے بغیر  مسجد سے نکل جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، البتہ اگر مسجد سے نکلنا دشمن کے خوف یا سردی کی وجہ سے مشکل ہو تو بہتر یہ ہے تیمم کیے بغیر مسجد میں نہ رکے۔

            لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی طالب علم یا تبلیغی ساتھی کو مسجد میں سوتے ہوئے احتلام ہو جائے، گرم پانی کا بندوبست نہ ہو،اورسردی کی وجہ سے باہر جانا دشوار ہو تو اسے چاہیے کہ تیمم کر کے مسجد میں ٹھہرے۔

 

إذا خاف الجنب أو الحائض سبعا أو لصا أو بردا فلا بأس بالمقام فيه والأولى أن يتيمم تعظيما للمسجد. هكذا في التتارخانية.( الفتاوى الهندية، الفصل الرابع في احكام الحيض والنفاس، ج: 1، ص: 92)

ومن احتلم وهو في المسجد يخرج من ساعته فإن كان في جوف الليل وخاف الخروج يستحب له أن يتيمم.(فتاوى قاضيخان، فصل فيما يوجب الغسل، ج: 1، ص: 31)


فتویٰ نمبر : 4893/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں