بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی نچلی منزل میں جگہ ہوتے ہوئے بالائی منزل سےاقتدا کرنا


سوال

 اگر مسجد کے صحن میں جگہ ہو تو اس صورت میں دوسری منزل سے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے میں کر اہت ہے یا نہیں؟

جواب

                  واضح رہے کہ با جماعت نماز میں صفوں کی درستگی اور صفوں میں خالی جگہوں کو پر کرنا ضروری ہے، احادیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، لہذا اگر کوئی مسجد دو تین منزلہ ہو تو پہلے نچلی منزل کی صفیں پوری کرنا ضروری ہے، جب تک نچلی منزل میں جگہ ہو، اوپر والی منزل میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے، اگر کوئی شخص نچلی منزل میں جگہ ہونے کے باوجوداوپروالی منزل میں امام کی اقتدا کرے اور اس پر امام کی حالت مشتبہ نہ ہوتی ہو تو اس کی نماز جائز ہو گی ۔البتہ فقہاءکرام کے ہاں یہ مکروہ تحریمی  ہے؛کیونکہ نچلی منزل میں جگہ ہونے کے باوجود اوپر والی منزل میں کھڑا ہونا ایسا ہے جیسے اگلی صف میں جگہ موجود ہو اور کوئی   پچھلی صف میں کھڑا ہو جائے۔

 

عن أنسِ بن مالِكٍ ، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ‌أتموا ‌الصف ‌المقدم، ثم الذي يليه، فما كان من نقص فليكن في الصف المؤخر "۔ (سنن أبي داؤد، كتاب الصلوة، باب تسوية الصفوف، ج:1، ص:107)

‌ولو ‌قام ‌على ‌سطح ‌المسجد واقتدى بإمام في المسجد إن كان للسطح باب في المسجد ولا يشتبه عليه حال الإمام يصح الاقتداء وإن اشتبه عليه حال الإمام لا يصح. كذا في فتاوى قاضي خان وإن لم يكن له باب في المسجد لكن لا يشتبه عليه حال الإمام صح الاقتداء أيضا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلوة،الباب الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم، ج:1، ص:88)

(‌والحائل ‌لا ‌يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) ۔۔۔ (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد وبيت في الاصح۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج:2،ص: 333)

ولو ‌صلى ‌على ‌رفوف ‌المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامه في صف خلف صف فيه فرجة۔ قال ابن عابدين تحت قوله (كقيامه في صف إلخ) هل الكراهة فيه تنزيهية أو تحريمية، ويرشد إلى الثاني قوله - صلى الله عليه وسلم - " ومن قطعه قطعه الله " ط (الدر المختارعلى صدر ردالمحتار، كتاب الصلوة، باب الإمامة، ج: 1، ص:570)


فتویٰ نمبر : 9005/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں