بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جسم کے کسی عضو پر سوئی کے ذریعےکوئی چیزبنوانا


سوال

  ہاتھوں ،بازو یا جسم کے کسی بھی عضو پر قلم یا سوئی وغیرہ کے ذریعے سے نام یا کوئی اور چیز بنوانا شرعا جائز  ہے یا نہیں ؟

جواب

                  واضح رہے کہ انسانی  جسم اللہ تعالی کی امانت ہے اور اس کی  قدرت کاملہ  کا عظیم مظہر ہے اس لیے شریعت اسلامیہ نے کسی  بھی انسان کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ کسی ضرورت کے  بغیر اپنے جسم میں من چاہے تصرف و تبدیلی کرے ۔لہذا بلا ضرورت  اپنے ہاتھ یا کسی بھی عضو  کو گدوا کر  کوئی چیز بنوانا یا  اپنا  نام لکھوانا شرعاً ممنوع ہےچنانچہ حضور﷐  کی حدیث پاک میں  ایسا  کرنے والی اور کروانے والی  دونوں  پر لعنت کی گئی ہے ۔

              لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق  ہاتھوں  ،بازو یا جسم کے کسی بھی عضو پر سوئی وغیرہ کے  ذریعے سے  نام  لکھوانایا کوئی اور چیز بنوانا  جائز نہیں  ۔اگر کسی مسلمان نے  نا سمجھی سے جسم کےکسی عضو کو سوئی کے ذریعے گدوایا ہو اور علاج معالجہ سے اس کا ازالہ ممکن ہو تو  اس نشان کو مٹانا واجب ہے۔البتہ اگر  کسی حرج کے بغیر اس کا ازالہ ممکن نہ ہو ،یا اس بات کا خوف ہو کہ اس کو زائل کرنے کی صورت میں جسم کا وہ حصہ تلف   یا  بے کار ہو جائے گا  یا زخم کا نشان بڑھ کر عیب پیدا ہو جا ئے گا تو ایسی صورت میں اس کا ازالہ واجب نہیں ۔ تاہم اللہ سے اس کی معافی مانگنا اور توبہ و استغفار کرنا ضروری ہے۔علاوہ ازیں قلم کے ذریعے سے نام لکھوانے یا پھول وغیرہ بنانے کی ممانعت اگر  چہ ثابت نہیں ہےلیکن خلاف مروت کام ہونے اور مذکورہ عمل کے ساتھ مشابہہ  ہونے کی وجہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

عن ابن عمرأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الواصلة والمستوصلة،والواشمة والمستوشمة۔۔۔(صحيح مسلم،كتاب اللباس والزينة،باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة،ج2،ص204)

والواشمة: التي تشم في الوجه والذراع، وهو أن تغرز الجلد بإبرة ثم يحشى بكحل أو نيل فيزرق والمستوشمة: التي يفعل بها ذلك بطلبها۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الحظر والإباحة،فصل في النظر والمس،ج9،ص536)

فإن أمكن إزالته بالعلاج وجبت إزالته وإن لم يمكن إلابالجرح فإن خاف منه التلف أو فوات عضو أومنفعة عضو أو شيئا فاحشا في عضو ظاهر لم تجب إزالته فإذا بان لم يبق عليه إثم وإن لم يخف شيئا من ذلك ونحوه لزمه إزالته۔) صحیح مسلم مع شرح النووي ،کتاب اللباس والزینة،باب تحریم فعل الواصلة،ج6،ص256)


فتویٰ نمبر : 4892/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں