بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 14/08/2026

دارالافتاء

 

کیمرہ مین کی کمائی کا حکم


سوال

 کیا کیمرہ مین کی کمائی حلال ہے؟

جواب

                 واضح رہے کہ احادیثِ  مبارکہ میں جان دار کی تصویر بنانے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا،اسی وجہ سے فقہاےکرام نے  جاندار کی تصویر  بنوانے کو  حرام اور ناجائز کہا ہے،البتہ ضرورتِ شدیدہ کے موقع پر مثلًا: پاسپورٹ یا شناختی کارڈ وغیرہ کی تصویر بنوانے کی گنجائش  ہے،اس لئے مجبوری میں تصویر بنانےاور بنوانے والے پر گناہ نہیں ہو گا  ۔

            لہٰذاصورت مسئولہ میں اگر  ضرورت کے مقامات مثلًا: پاسپورٹ یا شناختی کارڈ وغیرہ کےدفتر میں کیمر ہ مین کام کرےتو اس کی آمدنی حلال ہو گی لیکن  ضرورت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوزوغیرہ کو ذریعہ معاش بنانا جائز نہیں ،اس لئے اس سے احترازضروری ہے ۔

 

حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الأعمش، عن مسلم، قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون۔(الصحيح للبخاري،باب عذاب المصورين يوم القيمة،رقم الحديث:5950،ج:2،ص:449)

(ولا يجوز الاستئجار على سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد) فإنه لو استحقت به لكان وجوب ما يستحق المرء به عقابا مضافا إلى الشرع وهو باطل.(العناية شرح الهداية،باب الإجارة الفاسدة،ج:9،ص:98)

الضرورات تبيح المحظورات،ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة.(الأشباه واالنظائر،ج:1،ص:73)


فتویٰ نمبر : 2954/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں