بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے لیے کسی شخص کو وکیل بنانا


سوال

زید کو ایک شخص نے قربانی کے لئےبيس ہزار روپے دے دئے کہ اس سے میرے لئے ایک بکرا لے لو یا کسی کے ساتھ بڑے جانور میں حصہ ڈالو۔اب اس میں دو صورتیں ہیں :اگر ایک چھوٹا جانور یا حصہ بيس ہزار سے کم میں ملا تو باقی رقم مالک کو لوٹانا ضروری ہے یا نہیں۔یا اگر چھوٹا جانوریا بڑے جانور میں حصہ بيس ہزار سےزیادہ میں ملاتو باقی پیسہ زید اپنی جیب سے ڈال سکتا ہے یا نہیں؟اور ان پیسوں سےاس شخص کی قربانی پر کوئی اثر تو نہیں پڑیگا۔اسی طرح زید نہ خود جانور ذبح کر سکتا ہےاور نہ اس جانور کا چمڑا نکال سکتا ہے تو قصائی کی مزدوری کا خرچہ زید پر ہوگا یا اس شخص پرجس نے قربانی کے لئے رقم دی ہے؟اگر زید نے مزدوری کا خرچہ اپنی طرف سے دیدیا تو آیا رقم دینے والی کی قربانی پر تو کچھ اثر تو نہیں پڑیگا؟

جواب

               واضح رہے کہ قربانی مالی عبادت ہے اس لیے اس میں نیابت جاری ہوسکتی ہے پس اگر کوئی شخص کسی کو قربانی کا وکیل بنائےتو وکیل موکل کی اجازت پر قربانی کر سکتا ہے اور وکیل کی قربانی موکل کی قربانی شمار ہوگی ۔اور قربانی کے جانور پر جو خرچہ آئے گا اسی طرح قصائی وغیرہ کا جو خرچہ آئے گا یہ سب موکل ادا کرے گا ۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر جانوربیس ہزار سے کم میں ملا تو باقی رقم مالک کو لوٹائی جائے گی ۔اگر جانور یا حصہ بیس ہزار سے زیادہ میں ملاتو زید نے جو پیسے اپنی جیب سے ڈال دیے ہیں یہ موکل سے لےگا اور قصائی وغیرہ کا خرچہ بھی موکل سے لے گا۔

 

ومنھا؛أنه تجزئ  فیه النیابة،فیجوز للإنسان أن یضحی بنفسه وبغیرہ بإذنه؛لأنھا قربۃ تتعلق بالمال فتجزئ فیھا النیابة کأداء الزکاۃ وصدقةالفطر۔(بدائع الصنائع کتاب الأضحیۃ،فصل فی کیفیة الوجوب،ج:6،ص:291)


فتویٰ نمبر : 8988/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں