بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں غیر مسلم کو وکیل بنانا


سوال

  کیا کوئی اہل کتاب مسلمان کے نکاح کا وکیل ہوسکتا ہے ؟

جواب

                 واضح رہے کہ نکاح میں وکیل وہ شخص ہوتا جس  کو دلہے یا دلہن  نے اپنے نکاح کرانے کی اجازت دی ہو۔نکاح میں وکیل کا کام صرف الفاظ کی تعبیر تک رہتاہےلہذا نکاح میں وکیل کا مسلمان ہونا ضروری نہیں غیر مسلم بھی نکاح کا وکیل بن سکتا ہے۔

 

 أن الوكيل في النكاح معبر وسفير والتمانع في الحقوق دون التعيير ولا ترجع الحقوق إليه بخلاف البيع لأنه مباشر حتى رجعت الحقوق إليه۔(الهداية ،كتاب النكاح ، فصل في الوكالة بالنكاح،ج:2،ص:35)

الوكالة بكسر الواو وفتحها اسم التوكيل من وكله بكذا إذا فوض إليه ذلك۔۔۔ وفي اصطلاح الفقهاء عبارة عن إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم.(العناية شرح الهداية : كتاب الوكالة،ج:4،ص:322)


فتویٰ نمبر : 6354/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں