بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

گانے بجانے والے ولیمہ میں شرکت


سوال

میں اپنے گاؤں کے جامع مسجد میں امام اور خطیب ہوں، گاؤں کے لوگ مجھے اپنے غم اور خوشی  کے لمحات میں دعا کے لیے بلاتے ہیں، بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شادی سے دو تین ہفتے پہلے گانے بجانے اور اس جیسے دوسرے خلاف شرع امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے،  لیکن عین ولیمہ اور شادی کے ایام میں ایسے امور کا ارتکاب نہیں کیا جاتا۔ایسے مواقع پر لوگ مجھے ولیمہ کے دن دعا کے لیے اور کھانے کے لیے مدعو کرتے ہیں، اگر میں نہ جاؤں تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، کیا ایسی صورت میں میرے لیے اس دعوت کو قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے مسلمان کی دعوت قبول کرنا دوسرے مسلمان پر اس کا حق ہے، تاہم اگر کہیں پر شرعی عذر مانع ہو، یا دعوت قبول نہ کرنے کا متقاضی ہو، تو اس صورت میں دعوت قبول نہ کرنا ضروری ہے۔

      صورت مسئولہ کے مطابق   جس شادی میں گانے بجانے ہوں ، تو اگر  میوزک وغیرہ کھانے ہی کی جگہ پر موجود ہو، اور سب کو پہلے سے معلوم ہو، تو اس صورت میں سب عوام اور خواص کو جانے سے احتراز کرنا چاہئے،  البتہ اگر پہلے سے معلوم نہ ہو، تو عوام کو کھانے کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی با اثر مقتدیٰ  شخصیت ہو، اور اسے یقین ہو، کہ اس کی شرکت سے یہ لوگ میوزک وغیرہ بند کریں گے،  تو  گناہ کے سد باب کے لیے جانے اور ٹھرنے کی گنجائش ہے۔تاہم اگر یہ میوزک وغیرہ کھانا کھانے کی جگہ میں نہ  ہو، یا ولیمہ سے پہلے ہوئی ہو، اور اب عین ولیمہ  کے موقع  پر نہ ہو، تو ایسی صورت میں  دعوت میں شرکت کی جا سکتی ہے،نیز  مقتدیٰ اور اہل  علم کے لیے  بہتر یہ ہے کہ   حکمت اور مصلحت سے  ان کو  معصیت ترک کرنے پر آمادہ کریں۔

 

(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى: * (فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين) * (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدي (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد) لان فيه شين الدين، والمحكي عن الامام كان قبل أن يصير مقتدى به (وإن علم أو لا) باللعب (لا يحضر أصلا) سواء كان ممن يقتدى به أو لا، لان حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله،( ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، ج،10، ص652)

واعلم بأن هذه المسألة على وجهين:الأول: أن يكون اللعب والغناء على المائدة، وفي هذا الوجه لا ينبغي له أن يقعد لقوله تعالى: {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} (الأنعام: 68) ، وكذلك إذا كان على المائدة قوم يشربون الخمر، فلا ينبغي له أن يقعد، فقد صح أن رسول الله عليه السلام نهى أن يتناول الطعام في مجلس يشرب فيه الشراب، وكذلك إذا كان على المائدة قوم يغتابون لا يقعد، والغيبة أشد من اللهو واللعب؛ لأنها أشد من الزنا؛ قال عليه السلام: «الغيبة شر من الزنا» .والوجه الثاني: أن يكون اللعب والغناء في المنزل، وفي هذا الوجه لا بأس بأن يقعد على المائدة ويأكل، وهو المراد من المذكور في «الكتاب» ، قيل: هذا إذا كان الرجل ذا حشمة يتركون ما هم عليه بحشمته، فأما إذا لم يكن بهذه الصفة لا ينبغي أن يقعد ويأكل بل يعرض عنهم، وقول أبي حنيفة رضي الله عنه: ابتليت بهذا مرة يحمل أنه كان بعدما صار ذا حشمة، وعلى قياس هذا القول ينبغي أن يقال في الوجه الأول: إذا كان الرجل ذا حشمة يتركون ما هم عليه لحشمته لا بأس بأن يقعد ويأكل؛ بل القعود أولى ليصير ذلك سبباً لامتناعهم عن المعصية، وقيل أيضاً: ما ذكر في الوجه الثاني أن يقعد محمول على ما إذا كان الرجل خامل الذكر، ولا يقتدى به؛ أما إذا كان عالماً ويقتدى به لا يقعد ولا يأكل حتى لا يصير قدوة للشر ( المحيط البرهاني، كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الثامن عشر في الغناء، واللهو، وسائر المعاصي، والأمر بالمعروف، ج:6، ص:113)


فتویٰ نمبر : 4904/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں