بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دلہن کو خود سسرال کے گھر لے جانا


سوال

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ شادی میں دلہن کو خود اس کے  سسرال لے جانا سنت ہے تو کیا یہ احادیث سے ثابت ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ جو لوگ اس طرح کرتے ہیں تو عرف میں اس کو عار سمجھا جاتا ہے اور لوگ بے عزتی اور طعنہ کے طور پرکہتے ہیں کہ اپنی بیٹی پر تنگ تھا اس لیے خود حوالہ کردیالہذاشریعت کی روسے اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟

جواب

             واضح رہے کہ دلہن کی رخصتی کے لیے شریعت میں کوئی ایسا طریقہ لازمی طور پر متعین نہیں جس سے مخالفت ناجائز ہو،چنانچہ جس علاقے میں دلہن کی رخصتی کے لیے جو با عزت طریقہ متعارف ہو اسی کو اختیار کیا جاسکتا ہے ،تاہم اس کی رعایت ضروری ہے کہ رسومات میں کفار کے ساتھ مشابہت یا کسی خلاف شرع امر کا ارتکاب نہ ہو ۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب میں یہ دستور تھا  کہ دلہن کی رخصتی کے وقت اہل خانہ کے کچھ لوگ اس کو خود لے جاتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ ﷞کو رخصتی کے وقت ان کی والدہ ام رومان ﷝لے کرگئی تھی ۔لہٰذا اس طریقے کواپنانا جائز ہے اور اس کو عار سمجھنا کم فہمی ہے۔

 

حدثنا ‌فروة: حدثنا ‌علي بن مسهر، عن ‌هشام، عن ‌أبيه، عن ‌عائشة رضي الله عنها: تزوجني النبي صلى الله عليه وسلم ‌فأتتني ‌أمي ‌فأدخلتني الدار، فإذا نسوة من الأنصار في البيت فقلن على الخير والبركة وعلى خير طائر.)صحيح البخاری،کتاب النکاح،باب الدعاء للنساء اللاتی یهدین العروس:ج2،ص775)۔


فتویٰ نمبر : 6344/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں