بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نسبی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

 زین اللہ اور اصغر دونوں شیر خوار تھے، اور آپس میں چچازاد بھی تھے ، زین اللہ نے اصغر کی والدہ کا دودھ پیا ۔ اب زین اللہ کے دوسرے بھائی کا نکاح اصغر کی بہن کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

            اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو دودھ پلانے والی کے اصول وفروع اس بچے پر اور دودھ پینے والے کے فروع پلانے والی پر حرام ہوجاتے ہیں، تاہم دودھ پینے والے کی بہن، بھائی کی طرف حرمت کا یہ حکم متعدی نہیں ہوتا۔لہذا   زین اللہ کے نسبی بھائی کا اصغر کی نسبی  بہن سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو۔

 

لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى۔ (رد المحتار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:4، ص:410)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں