بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مچھلی کے سر پر ضرب لگا کر بے ہوش کرنا


سوال

ہمارا مچھلیوں کا کاروبار ہے، ہم زندہ مچھلیوں کو تالاب سے پکڑتے ہیں اور زندہ تول کر بیچتے ہیں، حالانکہ وہ ترازو میں تڑپتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا صحیح وزن معلوم نہیں ہوتا، لہذا مچھلی کے صحیح وزن کے برابر قیمت فروخت معلوم نہیں ہوتی،ایسی صورت میں ہم مچھلی کے سر کے اوپر ضرب لگا کر بیہوش کرتے ہیں جس کی بدولت ناپ تول میں کمی کا خدشہ بالکل ختم اور مچھلی مارنے کے اور طریقوں کی نسبت سانس نکلنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے، کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ نوٹ: مچھلی کو کسی دوسرے طریقے سے مارنے مثلاً سر کاٹنا یا تڑپتا چھوڑنے میں سانس جلدی نہیں نکلتی کبھی کبھی ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

جواب

              جانوروں کو  بلا وجہ تکلیف دینے سے منع کیا گیا، حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص جانور کو پچھاڑ کر چھری تیز کرنے لگا یہ دیکھ کر آنحضرتﷺنے فرمایا تم بکرے کو ایک سے زائد موت دینا چاہتے ہو،اس لیے  فقہاے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ فعل جس کی وجہ سے جانور کو تکلیف ہوتی ہو مکروہ ہے ،البتہ اگر جانور کو مارنے کی کوئی معقول وجہ ہو تو پھر بلاکراہت جائز ہے۔

            صورت مسٔولہ کے مطابق مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے اس کو سر پر مارنا اگر چہ ایک قسم کی اذیت رسانی ہے، لیکن چونکہ یہ ضرورت کی بنا پر ہے ، اس لیے ایسا کرنے کی گنجائش ہے۔

 

عن ابن عباس، أن رجلا أضجع شاة يريد أن يذبحها وهو يحد شفرته فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أتريد أن تميتها موتات؟ هل حددت شفرتك قبل أن تضجعها"۔ (مستدرک حاکم،کتاب الذبائح، حديث:7570)

(و) كره كل تعذيب بلا فائدة مثل (قطع الرأس والسلخ قبل أن تبرد) أي تسكن عن الاضطراب۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الذبائح، ج:6، ص:296)

وكره النخع وهو أن يبلغ بالسكين النخاع وتؤكل الذبيحة، والنخاع عرق أبيض في عظم الرقبة وقبل أن يمد رأسه حتى يظهر مذبحه، وقيل: أن يكسر عنقه قبل أن يسكن من الاضطراب، وكل ذلك مكروه لأنه تعذيب الحيوان بلا ضرورة، والحاصل أن كل ما فيه زيادة ألم لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه، كذا في الكافي. ( الفتاوى الهندية، كتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه، ج:5، ص:288)


فتویٰ نمبر : 4900/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں