بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی حدودمیں واش روم بنانا


سوال

مسجد کو شہید کرکے  از سر نو تعمیر میں اس مسجد کی حدود(کہ جہاں پر سجدہ/نماز ادا کی جاتی تھی)میں وضو خانہ یا واش روم بنانا کیسا ہے؟ 

جواب

          واضح رہے کہ جب کسی جگہ  مسجد کی تعمیر ہوجائے اور وہاں باجماعت نماز ادا ہوجائےتو وہ تا قیامت مسجد شرعی کے حکم میں ہوجاتی ہے ،لہذا اس کا کوئی بھی حصہ  کسی اور مقصد کے لیے متعین کرنا جائز نہیں۔لہذا مسجد کو شہید کرکےاز سر نو تعمیر میں  اس مسجد کےوہ حدود جہاں پر نماز ادا کی جاتی تھی،اس میں وضو خانہ یا واش روم(بیت الخلا)بنانا جائز نہیں ،بلکہ اس کو نماز ہی کےلیے مختص کرنا لازم ہے۔

 

أما لو تمت المسجدية أراد البناء منع ۔۔۔۔۔ ولوخرب ما حوله واستغنى عنه يبقى مسجدا عندالإمام،والثاني)أبدا إلى قيام الساعة(وبه يفتى)حاوي القدسي ۔ وقال إبن عابدينؒ تحت قوله:(أما لو تمت المسجدية) أي بالقول على المفتى به أو بالصلاة فيه ۔۔۔۔۔ وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذير المسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه ۔۔۔۔۔ وقوله:(عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ۔۔۔۔۔ مفرع على الإمام وأبي يوسف: أن المسجد إذا خرب يبقى مسجدا أبدا لكن علمت أن المفتى به قول أبي يوسف، أنه لا يجوز نقله۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الوقف،مطلب في أحكام المسجد،549.548/6)


فتویٰ نمبر : 4879/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں